ایبٹ آباد اور گلیات میں برفباری تھم گئی، روڈز کلیئر، 40 ہزار سیاحوں کی آمد
ایبٹ آباد اور اس سے ملحقہ خوبصورت سیاحتی علاقے گلیات میں گزشتہ چند روز سے جاری برفباری کا سلسلہ اب تھم چکا ہے، تاہم آسمان پر بادل بدستور موجود ہیں اور سرد ہواؤں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے۔ شدید برفباری کے بعد موسم میں وقتی وقفہ آنے سے جہاں ایک طرف مقامی آبادی نے سکھ کا سانس لیا ہے، وہیں دوسری جانب سیاحوں کی بڑی تعداد نے ان علاقوں کا رخ کر لیا ہے، جس سے گلیات ایک بار پھر سیاحتی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد اور گلیات میں حالیہ برفباری نے نہ صرف موسم کو مزید سرد کر دیا تھا بلکہ معمولاتِ زندگی بھی شدید متاثر ہوئے تھے۔ کئی علاقوں میں سڑکیں بند، بجلی کی فراہمی متاثر اور روزمرہ سرگرمیاں معطل ہو گئی تھیں۔ تاہم اب برفباری رکنے کے بعد صورتحال میں واضح بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GDA) کے ڈائریکٹر جنرل شاہ رخ علی کے مطابق تمام مرکزی اور رابطہ سڑکوں کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بحال ہو چکی ہے اور سیاح بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے مختلف مقامات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران تقریباً 40 ہزار سیاحوں نے گلیات کا رخ کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ برفباری کے بعد ان علاقوں کی دلکشی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ مری، نتھیا گلی، ایوبیہ، ڈونگا گلی اور دیگر مقامات پر برف سے ڈھکی پہاڑیاں، درختوں پر جمی سفید چادر اور سرد موسم سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر رہائشی سہولیات میں بھی خاصی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے سیاحوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس، ریسکیو اہلکار اور ضلعی انتظامیہ ہمہ وقت الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ سیاحوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، گاڑیوں میں چین (Chains) کا استعمال یقینی بنائیں اور موسم کی صورتحال کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں میں بھی شدید سردی کا راج برقرار ہے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بالائی اضلاع میں سرد موسم نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ سرد ہواؤں اور کم درجہ حرارت کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت اور گیس پریشر میں کمی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں شدید سردی پڑ سکتی ہے۔ پنجاب، بالائی سندھ اور خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں درمیانی سے شدید دھند چھائے رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث سڑکوں اور موٹر ویز پر حدِ نگاہ میں کمی ہو سکتی ہے اور سفری مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرد اور خشک رہا، جبکہ پہاڑی علاقوں میں سردی کی شدت زیادہ محسوس کی گئی۔ پنجاب، زیریں خیبرپختونخوا اور بالائی سندھ کے متعدد اضلاع میں شدید دھند چھائی رہی، جس سے حدِ نگاہ نہایت کم ہو گئی اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ کئی مقامات پر موٹر ویز کو جزوی طور پر بند کرنا پڑا جبکہ پروازوں کے شیڈول میں بھی تاخیر دیکھنے میں آئی۔
آج ریکارڈ کیے گئے کم سے کم درجہ حرارت کے مطابق ملک کے سرد ترین علاقوں میں لہہ سرِفہرست رہا، جہاں پارہ منفی 11 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قلات میں منفی 4 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح زیارت میں بھی درجہ حرارت منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو وہاں کے مکینوں کے لیے شدید سردی کا باعث بنا۔ ژوب میں کم سے کم درجہ حرارت 1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ سرد اور خشک موسم کا یہ سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہ سکتا ہے، لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وہ سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب گرم لباس کا استعمال کریں، خاص طور پر بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ دھند کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اگرچہ برفباری رکنے سے ایبٹ آباد اور گلیات میں صورتحال بہتر ہوئی ہے اور سیاحتی سرگرمیاں عروج پر ہیں، تاہم ملک کے مختلف حصوں میں شدید سردی اور دھند اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ عوام اور متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے ہی اس موسم کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور روزمرہ زندگی کو معمول پر لایا جا سکتا ہے۔


One Response