بجلی بل ٹیکس 9 روپے فی یونٹ، صارفین پر 900 ارب روپے کا اضافی بوجھ

بجلی بل ٹیکس کے باعث شہری اضافی بل ادا کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بجلی بلوں میں 9 روپے فی یونٹ ٹیکس وصولی کا انکشاف، عوام پر اربوں کا بوجھ

بجلی بل ٹیکس کے باعث ملک بھر کے صارفین پر مالی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بجلی صارفین سے فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک مختلف اقسام کے ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، جس نے عام شہریوں، چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں کے لیے بجلی کا استعمال مزید مہنگا بنا دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق بجلی کے بلوں میں مجموعی طور پر 6 مختلف ٹیکس اور اضافی چارجز شامل کیے جاتے ہیں۔ ان میں جنرل سیلز ٹیکس (GST)، انکم ٹیکس، ایڈوانس انکم ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، الیکٹرسٹی ڈیوٹی اور دیگر سرچارجز شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق انہی ٹیکسز اور سرچارجز کی وجہ سے بجلی کی اصل قیمت کے مقابلے میں صارفین کو کئی گنا زیادہ ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت ان مختلف ٹیکسز کے ذریعے سالانہ 900 ارب روپے سے زائد کی وصولی کر رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز نہ صرف مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

عام صارفین کا کہنا ہے کہ بجلی کی بنیادی قیمت پہلے ہی زیادہ ہے، جبکہ اس پر متعدد ٹیکسز شامل ہونے سے ماہانہ بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ کئی مرتبہ اصل بجلی استعمال کی قیمت سے زیادہ رقم ٹیکسز اور اضافی سرچارجز کی مد میں وصول کی جاتی ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ گردشی قرضہ، مہنگا ایندھن اور ناقص انتظامی نظام بھی ہے۔ تاہم بجلی بلوں پر عائد بھاری ٹیکسز نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ٹیکسوں میں کمی کرے تو عوام کو فوری ریلیف مل سکتا ہے۔

دستاویزات کے مطابق بجلی بلوں میں شامل جنرل سیلز ٹیکس 18 فیصد تک وصول کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مخصوص صارفین سے انکم ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس بھی لیا جاتا ہے۔ کئی صارفین نے اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا ہے کہ مختلف ٹیکسز کی تفصیلات بلوں میں پیچیدہ انداز میں درج ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے عام شہری اصل ادائیگی کو سمجھ نہیں پاتے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی صنعتی شعبے کی پیداوار پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ صنعتکاروں کے مطابق بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا اثر براہ راست ملکی برآمدات اور روزگار پر پڑ رہا ہے۔

شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی بلوں میں شامل غیر ضروری ٹیکسز اور اضافی سرچارجز کو فوری ختم کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں مہنگی بجلی نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے بغیر مالیاتی نظام کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، تاہم عوامی دباؤ کے باعث بجلی بلوں میں ریلیف کے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں، بجلی چوری روکی جائے اور لائن لاسز کم کیے جائیں تو عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔

اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات پر مسلسل بڑھتے ٹیکسز مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور کاروباری طبقہ دونوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

حالیہ انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں صارفین نے بجلی بلوں میں شامل بھاری ٹیکسز پر تنقید کرتے ہوئے شفاف نظام کا مطالبہ کیا ہے۔ کئی شہریوں نے کہا کہ بجلی کے بل اب متوسط طبقے کے لیے سب سے بڑا مالی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ٹیکسوں میں کمی اور بجلی کے نظام میں بہتری لانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تو نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ صنعتی ترقی اور معاشی استحکام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]