بجٹ 2026-27 تجاویز: تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس میں بڑی کمی کی سفارش

بجٹ 2026-27 تجاویز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجویز، سپر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ

پاکستان میں آئندہ مالی سال کے بجٹ 2026-27 کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں اور اسی سلسلے میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے وزارت خزانہ کو اہم بجٹ تجاویز ارسال کر دی ہیں۔ ان تجاویز میں خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے، سپر ٹیکس کے خاتمے، نان ٹیکس سلیب بڑھانے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے متعدد سفارشات شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومت ان تجاویز کو بجٹ 2026-27 کا حصہ بناتی ہے تو اس سے نہ صرف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ملے گا بلکہ معیشت میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز

ایف پی سی سی آئی نے بجٹ 2026-27 تجاویز میں تنخواہ دار طبقے پر عائد انکم ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی سفارش کی ہے۔ موجودہ شرح 36 فیصد ہے جسے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کاروباری برادری کا مؤقف ہے کہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باعث تنخواہ دار طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے، اس لیے ٹیکسوں میں کمی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

نان ٹیکس سلیب بڑھانے کی سفارش

بجٹ تجاویز میں نان ٹیکس سلیب کو 6 لاکھ روپے سالانہ سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے سالانہ کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد کم آمدنی والے افراد کو ٹیکس کے بوجھ سے بچانا اور متوسط طبقے کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت یہ تجویز منظور کرتی ہے تو لاکھوں ملازمین کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

9 فیصد سرچارج ختم کرنے کا مطالبہ

ایف پی سی سی آئی نے تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اضافی سرچارج نے ملازمین کی آمدنی پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔

تنظیم کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ معاشی استحکام کے موجودہ مرحلے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے تاکہ قوت خرید بہتر ہو سکے۔

سپر ٹیکس کے خاتمے کی سفارش

بجٹ 2026-27 تجاویز میں سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام کے مطابق سپر ٹیکس سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے اور اس کے باعث کاروباری اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سپر ٹیکس ختم کر دیتی ہے تو اس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور صنعتی شعبے میں نئی سرمایہ کاری آئے گی۔

آئی ٹی برآمدات کیلئے طویل المدتی پالیسی

ایف پی سی سی آئی نے بجٹ تجاویز میں آئی ٹی شعبے کیلئے خصوصی مراعات جاری رکھنے کی سفارش کی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ٹی شعبے پر عائد 25 فیصد برآمدی ٹیکس کی موجودہ پالیسی کو 2035 تک برقرار رکھا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو طویل المدتی اعتماد مل سکے۔

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے آئی ٹی سیکٹر کیلئے مستحکم پالیسی اپنائی تو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات موجودہ 3.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10 ارب ڈالر تک جا سکتی ہیں۔

برآمدات بڑھانے کیلئے اہم تجاویز

وفاقی ایوان تجارت نے گڈز ایکسپورٹرز کیلئے فائنل ٹیکس ریجیم (ایف ٹی آر) کو بحال کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ کاروباری طبقے کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے برآمدی شعبے کو استحکام ملے گا اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس وقت تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر کے چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں برآمدات میں اضافہ معیشت کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

ایس ایم ای سیکٹر کیلئے تجاویز

بجٹ 2026-27 تجاویز میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار یعنی ایس ایم ای سیکٹر کیلئے بھی اہم سفارشات شامل ہیں۔ ایف پی سی سی آئی نے ایس ایم ای ٹرن اوور کی حد 250 ملین سے بڑھا کر 500 ملین کرنے کی تجویز دی ہے۔

کاروباری تنظیم کے مطابق اس اقدام سے چھوٹے کاروباروں کو مزید ترقی کے مواقع ملیں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے ٹیکس ریلیف

تجاویز میں مینوفیکچررز کیلئے انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ صنعتی شعبے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ بلند ٹیکس شرح پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے جس سے مقامی صنعتیں عالمی مارکیٹ میں مقابلے کی صلاحیت کھو رہی ہیں۔

معاشی استحکام پر اظہار اطمینان

ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام نے کہا کہ 2022 میں پاکستان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم اب ملک آہستہ آہستہ معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، بزنس کمیونٹی اور متعلقہ ادارے اگر مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو پاکستان معاشی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے۔

سفارتی کامیابیوں کو معاشی فوائد میں بدلنے پر زور

صدر ایف پی سی سی آئی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو حالیہ سفارتی کامیابیوں کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر بہتر تعلقات اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بجٹ 2026-27 تجاویز میں تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری، آئی ٹی سیکٹر اور صنعتی شعبے کیلئے متعدد اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ اگر حکومت ان تجاویز کو بجٹ کا حصہ بناتی ہے تو اس سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]