روزمرہ استعمال کی وہ غذائیں جو کینسر کا سبب بن سکتی ہیں

کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں جو روزمرہ استعمال ہوتی ہیں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں

جب ہم کینسر جیسے موذی مرض کے بارے میں سوچتے ہیں تو ذہن میں اسپتال، مہنگے ٹیسٹ، کیموتھراپی اور سرجری کا تصور آتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کینسر کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں اکثر ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، جو خاموشی سے جسم پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق کوئی ایک غذا اچانک کینسر پیدا نہیں کرتی، مگر کچھ غذاؤں کا مسلسل اور حد سے زیادہ استعمال وقت کے ساتھ جسم میں ایسے کیمیائی اور حیاتیاتی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جو کینسر کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔

1۔ پراسیس شدہ گوشت

ساسیجز، سلامی، ہاٹ ڈاگز اور دیگر پراسیس گوشت کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں تصور کی جاتی ہیں۔ ان میں شامل نائٹریٹس جسم میں جا کر نائٹروسامینز میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جنہیں مختلف اقسام کے کینسر خصوصاً معدے اور آنتوں کے کینسر سے جوڑا گیا ہے۔

دھویں میں پکایا گیا یا محفوظ کیا گیا گوشت بھی اسی زمرے میں آتا ہے، جو بظاہر مزیدار مگر اندرونی طور پر نقصان دہ ہوتا ہے۔

2۔ سرخ گوشت کا زیادہ استعمال

سرخ گوشت اگرچہ پروٹین کا اچھا ذریعہ ہے، مگر اس کا حد سے زیادہ استعمال، خاص طور پر تیز آنچ پر پکانا، کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں میں شمار ہوتا ہے۔

باربی کیو یا زیادہ تلے ہوئے گوشت میں ایسے مرکبات بنتے ہیں جو آنتوں کے کینسر سے منسلک پائے گئے ہیں۔ اعتدال ہی صحت کی کنجی ہے۔

3۔ ڈیپ فرائی غذائیں

فرنچ فرائز، سموسے، پکوڑے اور دیگر تلی ہوئی غذائیں ہمارے معاشرے میں بے حد مقبول ہیں، مگر یہ کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں بن سکتی ہیں۔

ان غذاؤں میں ایک کیمیکل "ایکریلامائیڈ” پایا جاتا ہے، جسے عالمی اداروں نے ممکنہ طور پر کینسر سے منسلک قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ موٹاپا اور ذیابیطس بھی انہی غذاؤں کا تحفہ ہوتے ہیں، جو خود کینسر کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔

4۔ چینی اور ریفائن کاربوہائیڈریٹس

زیادہ میٹھی اشیاء، سفید آٹا، بیکری آئٹمز اور کولڈ ڈرنکس براہ راست کینسر نہیں کرتیں، مگر یہ کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں بن سکتی ہیں۔

چینی کا زیادہ استعمال انسولین کی مزاحمت، موٹاپے اور دائمی ورم کا سبب بنتا ہے، جو بریسٹ اور آنتوں کے کینسر سے جڑے ہوئے عوامل ہیں۔

5۔ الٹرا پراسیس پیکج فوڈز

انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے سیریلز اور فوری تیار ہونے والے کھانے صحت کے لیے سہولت تو ہیں مگر قیمت بہت بھاری ہے۔

یہ غذائیں کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں اس لیے سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان میں مصنوعی اجزا، اضافی نمک اور نقصان دہ چکنائی شامل ہوتی ہے، جو معدے اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔

6۔ زیادہ پکے یا جلے ہوئے کھانے

جلی ہوئی روٹیاں، زیادہ گرل کیا گیا گوشت اور جلی ہوئی غذاؤں میں ایسے کیمیکلز پیدا ہو جاتے ہیں جو نظامِ ہاضمہ کے کینسر سے منسلک پائے گئے ہیں۔

اسی لیے ماہرین غذاؤں کو جلنے سے بچانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں بننے سے روکا جا سکے۔

غذائی عادات بھی پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

احتیاط ہی اصل علاج ہے

کینسر سے بچاؤ کے لیے صرف دوائیں کافی نہیں، بلکہ روزمرہ کی عادات اور خوراک پر نظر رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ اگر ہم آج اپنی پلیٹ پر توجہ دیں، تو کل اسپتالوں کے چکر کم ہو سکتے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]