
نیپال پرتشدد مظاہرے: سابق وزیراعظم جھالا ناتھ کھنال کی اہلیہ زندہ جل گئیں
نیپال پرتشدد مظاہروں میں سابق وزیراعظم جھالا ناتھ کھنال کی اہلیہ آگ لگنے سے جاں بحق ہوگئیں۔ سوشل میڈیا پابندی کے بعد ہنگاموں نے شدت اختیار کر لی، فوج تعینات۔

نیپال پرتشدد مظاہروں میں سابق وزیراعظم جھالا ناتھ کھنال کی اہلیہ آگ لگنے سے جاں بحق ہوگئیں۔ سوشل میڈیا پابندی کے بعد ہنگاموں نے شدت اختیار کر لی، فوج تعینات۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے دوحہ میں اسرائیلی حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قطر اس جارحیت کو ہرگز نظرانداز نہیں کرے گا اور اسرائیل کو بھرپور جواب دینے کے لیے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔

شبانہ محمود انتباہ: برطانوی حکومت نے پناہ گزینوں کو واپس نہ لینے والے ممالک کے لیے ویزا پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا۔

قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ترکیے کا مؤقف: اسرائیل جنگ ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، حماس رہنماؤں پر قطر میں حملہ ترکیے نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل جنگ ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا اور اس کی پالیسی خطے میں مزید بدامنی پھیلانے پر مبنی ہے۔ قطر میں حماس کے مذاکراتی

اسرائیل کے دوحا پر فضائی حملے کے بعد قطر کی فضاؤں میں کشیدگی بڑھ گئی۔ قطری ایف 15 جنگی طیارے فوری حرکت میں آ گئے جبکہ اطلاعات کے مطابق حماس کے رہنما خلیل الحیہ حملے میں نشانہ بنے۔ اسرائیلی فوج نے حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

نیپال وزیراعظم مستعفی ہو کر ملک سے فرار ہوگئے، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل۔ عوامی احتجاج کے باعث 21 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے۔

اسرائیل کا دوحا میں حملہ، حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا، دھماکوں سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ۔

ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ، طالبان سے خواتین کارکنان پر پابندی ختم کرنے کی اپیل زلزلے کے بعد افغانستان کی صورتحال 1 ستمبر 2025 کو آنے والے خوفناک زلزلے نے مشرقی افغانستان کو بری طرح متاثر کیا۔ اس سانحے میں تقریباً 2,200 افراد جان سے گئے اور 3,600 سے زائد

غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے عالمی قافلے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کی کشتی پر تیونس کی بندرگاہ کے قریب مبینہ ڈرون حملہ ہوا، جس کا الزام اسرائیل پر لگایا جا رہا ہے۔ اگرچہ تیونس نے ڈرون حملے کی تردید کی، لیکن فلوٹیلا منتظمین اسرائیل کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے تیونس کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی قرار دیا ہے۔