ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ: طالبان خواتین امدادی کارکنان پر پابندی ہٹائیں

ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ، طالبان سے خواتین کارکنان پر پابندی ختم کرنے کی اپیل

زلزلے کے بعد افغانستان کی صورتحال

1 ستمبر 2025 کو آنے والے خوفناک زلزلے نے مشرقی افغانستان کو بری طرح متاثر کیا۔ اس سانحے میں تقریباً 2,200 افراد جان سے گئے اور 3,600 سے زائد زخمی ہوئے۔ متاثرین میں خواتین اور بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت نے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور فوری طور پر ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ سامنے آیا۔

ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ کیوں اہم ہے؟

ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ طالبان حکومت سے اس لیے کیا گیا ہے کہ خواتین امدادی کارکنان پر عائد پابندی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں زخمی خواتین مرد ڈاکٹروں کے سامنے آنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہیں، جس سے بروقت علاج نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

خواتین امدادی کارکنان کی کمی

ڈاکٹر مُکتا شرما، جو ڈبلیو ایچ او افغانستان آفس کی ڈپٹی نمائندہ ہیں، کے مطابق متاثرہ علاقوں میں طبی عملے کا صرف 10 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ زیادہ تر یہ مڈوائف اور نرسیں ہیں۔ لیکن اتنی محدود تعداد میں خواتین کارکنان ہزاروں متاثرین کی مدد کے لیے ناکافی ہیں۔ اسی لیے ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ (WHO demand) شدت اختیار کر گیا ہے۔

طالبان حکومت کی پالیسیوں کے اثرات

طالبان حکومت نے خواتین پر مختلف شعبوں میں سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں کام، تعلیم اور عوامی زندگی میں شمولیت شامل ہیں۔ زلزلے جیسے بڑے سانحے میں بھی ان پابندیوں نے انسانی ہمدردی کے اقدامات کو شدید متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری اور بالخصوص ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ عالمی سطح پر گونج رہا ہے۔

متاثرہ خواتین کو درپیش مشکلات

متاثرہ خواتین کو دوہری مشکلات کا سامنا ہے:

زلزلے سے زخمی ہونے کے بعد بروقت طبی امداد کی کمی۔

مرد ڈاکٹروں کے سامنے علاج نہ کروانے کی ہچکچاہٹ۔
ان حالات میں اگر خواتین امدادی کارکنان پر پابندی برقرار رہی تو مزید جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ اسی پس منظر میں ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ بار بار دہرایا جا رہا ہے۔

عالمی اداروں کا ردعمل

صرف ڈبلیو ایچ او ہی نہیں بلکہ دیگر عالمی ادارے بھی طالبان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے پابندیوں پر نرمی کی جائے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی ادارے بھی اس موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔

انسانی ہمدردی اور مذہبی و ثقافتی پہلو

ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسانی جانوں کو بچانا سب سے مقدم ہے۔ مذہبی اور ثقافتی اقدار اپنی جگہ لیکن جب معاملہ انسانی جان بچانے کا ہو تو عالمی اصول یہی ہیں کہ فوری اور غیر مشروط امداد فراہم کی جائے۔

افغانستان میں صحت کا نظام اور چیلنجز

افغانستان پہلے ہی صحت کے بنیادی ڈھانچے میں کمزوری کا شکار ہے۔ وہاں ہسپتالوں میں سہولیات ناکافی ہیں اور تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے۔ ایسے میں زلزلے جیسے سانحے کے بعد خواتین کارکنان پر پابندی صورتحال کو مزید ابتر بنا رہی ہے۔ اسی لیے ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ عالمی برادری کی آواز بن گیا ہے۔

مستقبل کے خدشات

اگر طالبان حکومت نے ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ نہ مانا تو خدشہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مزید ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ خواتین کو بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے اموات کی شرح بڑھ سکتی ہے، جبکہ عالمی امدادی ادارے اپنی مداخلت محدود کر سکتے ہیں۔

زلزلے کے بعد افغانستان میں ہنگامی صورتحال ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت خواتین امدادی کارکنان کی ہے تاکہ متاثرہ خواتین اور بچوں کو فوری طبی سہولت دی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او کا مطالبہ نہ صرف برحق ہے بلکہ انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے مطابق بھی ہے۔ اگر طالبان نے اس مطالبے پر عمل درآمد نہ کیا تو یہ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا انسانی المیہ ثابت ہوگا۔

افغانستان زلزلہ جاں بحق افراد کی تعداد 1 ہزار سے تجاوز، ہزاروں گھر تباہ

افغانستان زلزلہ: جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز، ہزاروں گھر تباہ
افغانستان میں خوفناک زلزلے کے بعد تباہ شدہ مکانات اور امداد کے منتظر متاثرین

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]