عوام ووٹ دیں یا نہ دیں، گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، نواز شریف کا خطاب

گلگت بلتستان میں عوامی اجتماع سے نواز شریف کا خطاب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عوام ووٹ دیں یا نہ دیں، گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، نواز شریف کا گلگت بلتستان میں عوامی اجتماع سے خطاب

گلگت: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں، سیاحت کے فروغ اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے عزم کا اظہار کیا۔

نواز شریف کا خطاب کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی وہ خود نگرانی کریں گے تاکہ ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی حسن سے مالا مال خطہ ہے اور یہاں سیاحت کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا اہم مرکز ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس خطے کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے علاقے کی خستہ حال سڑکوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں دیکھ کر دلی دکھ ہوتا ہے اور ان مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کا خطاب کہا کہ چاہے عوام انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں، وہ گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف سے بات کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ طلبہ کے لیے مزید اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

علیمہ خان نے عمران خان اور سابق آرمی چیف کی ملاقات کی تردید
علیمہ خان نے عمران خان اور سابق آرمی چیف کی ملاقات سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔

نواز شریف کا خطاب کہا کہ گلگت بلتستان میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے وفاقی سطح پر اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو عوام نے دوبارہ موقع دیا تو وہ باقاعدگی سے گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا خود جائزہ لیں گے۔

نواز شریف کا خطاب میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں گلگت بلتستان کے حصے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2017 میں اس حوالے سے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی، تاہم بعد کے سیاسی حالات کے باعث اس کی سفارشات پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کئی ترقیاتی منصوبے شروع تو کیے گئے لیکن مکمل نہ ہو سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں اسپتالوں، ہائیڈل پاور منصوبوں اور دیگر ترقیاتی سکیموں پر نمایاں کام کیا گیا جبکہ دیگر حکومتیں اس رفتار کو برقرار نہ رکھ سکیں۔

انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے 2015 میں زمین کے حصول کے لیے 100 ارب روپے فراہم کیے تھے، لیکن منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ منصوبہ بروقت مکمل ہو جاتا تو گلگت بلتستان اور پورے پاکستان کو اس کے فوائد حاصل ہوتے۔

نواز شریف کا خطاب کہا کہ مسلم لیگ (ن) اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگتی ہے اور آئندہ بھی علاقے کی ترقی، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

دورہ گلگت بلتستان کے دوران وفاقی وزراء، پارٹی رہنما اور انتخابی امیدوار بھی ان کے ہمراہ موجود تھے جبکہ مقامی قیادت نے ان کا استقبال کیا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: نواز شریف نے گلگت بلتستان کے دورے میں کیا اعلان کیا؟

جواب: نواز شریف نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کریں گے۔

سوال 2: نواز شریف نے سیاحت کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت مستحکم ہوگی۔

سوال 3: لوڈشیڈنگ کے حوالے سے نواز شریف کا مؤقف کیا تھا؟

جواب: انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں طویل لوڈشیڈنگ ناقابل قبول ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف سے بات کریں گے۔

سوال 4: طلبہ کے لیے کیا اعلانات کیے گئے؟

جواب: نواز شریف نے طلبہ کے لیے مزید اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

سوال 5: نواز شریف نے گلگت بلتستان کی سڑکوں کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی خستہ حال سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوا اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]