لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی گاڑی کے قریب فائرنگ، ملزم اسلحے سمیت گرفتار
عطا اللہ تارڑ کی گاڑی کے قریب ہوائی فائرنگ کے واقعے میں لاہور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ ملزم کو اسلحے سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ واقعہ لاہور کے علاقے ڈیفنس (ڈیفنس اے) میں پیش آیا، جہاں پولیس کے مطابق ایک کار سوار نوجوان نے وفاقی وزیر اطلاعات کی گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کے بعد فائرنگ کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سیف سٹی اتھارٹی کی نگرانی، کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کی شناخت کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے زیر استعمال گاڑی کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ رات ڈیفنس اے کے علاقے میں پیش آیا۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تفتیش کر رہی ہے تاکہ فائرنگ کے محرکات اور تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، اسی دوران ایک گاڑی بائیں جانب سے آگے نکلی اور اس میں موجود نوجوان نے پانچ فائر کیے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد انہوں نے متعلقہ گاڑی کا تعاقب کیا اور قریب موجود پولیس ناکے کو فوری اطلاع دی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی شروع کی۔
عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ ان کے بقول فائرنگ انہیں نشانہ بنا کر نہیں کی گئی بلکہ یہ ہوائی فائرنگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
READ MORE FAQS
واقعہ کہاں پیش آیا؟
یہ واقعہ لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں پیش آیا۔
کون گرفتار ہوا؟
پولیس نے مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ کرنے والے نوجوان کو اسلحے سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
ملزم کو کیسے گرفتار کیا گیا؟
پولیس کے مطابق سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے کیا کہا؟
ان کے مطابق نوجوان نے انہیں نشانہ بنا کر فائرنگ نہیں کی بلکہ ہوائی فائرنگ کی، جبکہ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔








