تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، اپوزیشن تعریف کرے، عطا تارڑ کا بجٹ پر بڑا بیان
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف وفاقی بجٹ 2026-27 کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے اور حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے لاکھوں ملازمین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو مثبت معاشی اقدامات کی تعریف کرنی چاہیے کیونکہ موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ جمہوری اداروں کا احترام اور پارلیمانی روایات کا فروغ تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں عام شہریوں اور بالخصوص تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پچاس ہزار روپے ماہانہ آمدن تک کوئی انکم ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ ایک لاکھ روپے تک تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے بھی ٹیکس کی شرح انتہائی کم رکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ متوسط طبقے پر مالی بوجھ کم کیا جائے اور عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جائے۔
عطا تارڑ نے اپنی تقریر میں سابق معاشی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک وقت میں ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکا تھا اور معاشی بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مؤثر رابطوں کے باعث پاکستان معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات نے ملکی معیشت کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اگر بروقت فیصلے نہ کیے جاتے تو ملک کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں بہتری حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی عناصر نے مشکل حالات میں حکومت کا ساتھ دینے کے بجائے منفی سیاست کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ حکومت نے ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ایف بی آر کی کارکردگی میں بہتری لائی گئی ہے جبکہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے جدید نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ ایماندار ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ صرف محصولات بڑھانے پر نہیں بلکہ سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی پر بھی مرکوز ہے۔ بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے مراعات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری، صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان اقدامات سے ملکی معیشت میں استحکام آئے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل فیصلے کیے لیکن ان فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مہنگائی میں کمی، شرح سود میں بہتری اور معاشی اشاریوں میں مثبت تبدیلیاں عوام کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف اور ٹیکس اصلاحات حکومت کے اہم اقدامات تصور کیے جا رہے ہیں، تاہم ان کے حقیقی اثرات کا اندازہ آنے والے مہینوں میں ہوگا۔ اپوزیشن جماعتیں بجٹ پر تنقید کر رہی ہیں جبکہ حکومت اسے عوام دوست بجٹ قرار دے رہی ہے۔
READ MORE FAQS
- عطا تارڑ نے بجٹ کے حوالے سے کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا ہے اور اپوزیشن کو اس کی تعریف کرنی چاہیے۔
- کیا تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے؟
جی ہاں، حکومت نے مختلف انکم ٹیکس سلیب میں نرمی اور ریلیف کی تجاویز پیش کی ہیں۔
- کیا 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس ہوگا؟
عطا تارڑ کے مطابق 50 ہزار روپے ماہانہ آمدن تک کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
- حکومت نے بجٹ کو عوام دوست کیوں قرار دیا؟
حکومت کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں تنخواہوں، پنشن، ٹیکس ریلیف اور معاشی استحکام کے اقدامات شامل ہیں۔








