مالی میں فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ، 50 اہلکار جان سے گئے
مالی میں فوجی قافلے پر حملہ ایک بار پھر ملک کی سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی و وسطی علاقوں میں ایک فوجی قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 50 اہلکار جان سے گئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب فوجی قافلہ شورش سے متاثرہ علاقے سے گزر رہا تھا۔ حملہ آوروں نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا اور خودکار ہتھیاروں کے ساتھ دھماکا خیز مواد بھی استعمال کیا، جس سے بھاری جانی نقصان ہوا۔
مالی کی فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں اضافی دستے روانہ کر دیے گئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز حملہ آوروں کی تلاش کے لیے آپریشن کر رہی ہیں جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم مالی کے ساحل (Sahel) خطے میں ماضی میں داعش سے وابستہ گروہوں اور القاعدہ سے منسلک تنظیموں کی جانب سے فوج اور سکیورٹی فورسز پر اسی نوعیت کے حملے کیے جاتے رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ حملے کے پیچھے کون سا گروہ ملوث ہو سکتا ہے اور اس کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی۔
مالی گزشتہ کئی برسوں سے شورش، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں فوجی کارروائیاں اور سکیورٹی آپریشنز جاری رہتے ہیں۔
اس خبر میں حملے کے ذمہ دار گروہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ کسی تنظیم نے تاحال باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی اور حکام کی تحقیقات جاری ہیں۔
READ MORE FAQS
مالی میں فوجی قافلے پر حملہ کہاں ہوا؟
رپورٹس کے مطابق حملہ مالی کے شمالی و وسطی علاقوں میں پیش آیا۔
حملے میں کتنے اہلکار جان سے گئے؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 50 اہلکار جان سے گئے۔
کیا کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے؟
نہیں، خبر کے مطابق تاحال کسی گروہ نے باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مالی کی فوج نے کیا کارروائی کی؟
فوج نے اضافی دستے متاثرہ علاقے میں بھیجے ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔








