لانگ مارچ: اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی ادارے 22 ستمبر سے بند کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ احتجاجی مارچز کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے 22 ستمبر سے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ اضافی سکیورٹی نفری کی رہائش کے لیے بھی سرکاری اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو استعمال کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بند کیے جانے والے تعلیمی اداروں میں 22 ستمبر سے معمول کی تعلیمی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل رہیں گی۔ موجودہ معلومات کے مطابق ان اداروں میں آن لائن کلاسز یا متبادل تعلیمی انتظام کے حوالے سے وفاقی نظامت تعلیم کی جانب سے تاحال کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی۔
اسلام آباد میں یہ انتظامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب وفاقی دارالحکومت کی جانب مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاجی مارچز کا اعلان کیا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے باعث شہر کے داخلی و خارجی راستوں سمیت مختلف اہم شاہراہوں پر سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں اضافی پولیس اہلکاروں اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے لیے مختلف مقامات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق دیگر صوبوں سے بلائے گئے پولیس اور ایف سی اہلکاروں کے لیے سرکاری عمارتوں، اسکولوں، کالجوں، اسپورٹس کمپلیکس، میرج ہالز اور پولیس اسٹیشنز میں رہائش کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سرکاری تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ بھی اسی سکیورٹی انتظامات کا حصہ ہے۔ تاہم تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی سے متعلق حتمی شیڈول یا متبادل تدریسی نظام کے بارے میں مزید ہدایات سامنے آنا باقی ہیں۔
اسلام آباد میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث انتظامیہ کی جانب سے مختلف اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کرنے اور داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی بڑھانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جانے کی تیاری کی گئی ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ شروع کر دیا ہے۔ ڈان کے مطابق جماعت اسلامی کا ’سپر لانگ مارچ‘ کراچی سے شروع ہونے کے بعد دیگر علاقوں سے بھی قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔
تحریک انصاف نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس احتجاج کے حوالے سے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حالیہ کارروائی میں عوامی سڑکوں اور راستوں کی بندش سے متعلق قانونی حدود پر بھی توجہ دلائی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی سرگرمیوں کے باعث شہریوں کی معمول کی نقل و حرکت، کاروباری سرگرمیوں اور دیگر معمولات متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر انتظامیہ نے سکیورٹی پلان کو مزید فعال کیا ہے۔ ایسے میں سرکاری تعلیمی اداروں کی عارضی بندش کا فیصلہ بھی انتظامی اقدامات میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق 24 سرکاری تعلیمی ادارے 22 ستمبر سے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بندش کتنے عرصے تک جاری رہے گی۔ آن لائن تعلیم یا متبادل تدریسی انتظام کے بارے میں بھی فی الحال کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی۔
READ MORE FAQS
سوال: اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی ادارے کب بند ہوں گے؟
جواب: ذرائع کے مطابق 24 سرکاری تعلیمی ادارے 22 ستمبر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سوال: کتنے سرکاری تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں؟
جواب: فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے بند کیے جائیں گے۔
سوال: اسکول بند کرنے کی وجہ کیا ہے؟
جواب: یہ فیصلہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی مارچز کے پیش نظر سکیورٹی اور انتظامی صورتحال کے باعث کیا گیا ہے۔
سوال: کیا بند اسکولوں میں آن لائن کلاسز ہوں گی؟
جواب: ذرائع کے مطابق فی الحال آن لائن تعلیم یا متبادل تدریسی انتظام سے متعلق وفاقی نظامت تعلیم کی کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی۔








