حوثیوں کا سعودی عرب پر 28 حملوں کا دعویٰ

حوثیوں کا سعودی عرب پر 28 فضائی حملوں کا الزام
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

حوثیوں کا سعودی عرب پر 24 گھنٹوں میں 28 فضائی حملوں کا الزام

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق سعودی فضائیہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 28 حملے کیے۔ ان کے مطابق حملے تعز، الجوف اور مأرب کے علاقوں میں کیے گئے۔

حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائی حملوں میں ایف 15 اور ٹائفون طیارے استعمال کیے گئے، جو خمیس مشیط اور طائف کے فضائی اڈوں سے روانہ ہوئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے مغربی علاقوں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جن میں بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ ینبع بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کو ناکام بنایا۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں حساس مقامات اور ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ سعودی حکام نے ریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روکنے کی اطلاع دی، جبکہ حملے کے دوران دارالحکومت کے قریب دھواں اور دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سعودی تیل کی برآمدات کے لیے اہم مرکز ہے، جس کے باعث خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسی دوران امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق ریٹکلف نے مصری قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں اور علاقائی صورتحال پر سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اپنے سرکاری ملازمین کے سعودی عرب کے شہروں طائف اور ینبع کے سفر پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ینبع کو خاص طور پر اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بحیرہ احمر پر سعودی تیل برآمد کرنے کا بڑا مرکز ہے اور ماضی میں بھی حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف براہ راست امریکی فضائی کارروائی کی درخواست کی تھی، تاہم واشنگٹن نے اس درخواست پر براہ راست فوجی کارروائی سے گریز کیا۔ Axios کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں کی درخواست کی تھی، جبکہ بعد کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ واشنگٹن براہ راست کارروائی میں شامل ہونے سے محتاط ہے۔

حوثی عہدیداروں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فریق سے رابطوں کے دوران امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حوثی سیاسی عہدیدار محمد البخیتی نے کہا کہ امریکی اور حوثی فریق کے درمیان رابطے ہوئے ہیں اور گروپ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی بات کر چکا ہے۔

اس صورتحال کے باعث سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں سمندری آمدورفت اور عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حوثیوں کے زیر اثر علاقوں اور سعودی عرب کے درمیان حملوں کے تبادلے نے یمن کی جنگ کو ایک بار پھر وسیع علاقائی تنازع کی طرف دھکیلنے کے خدشات پیدا کیے ہیں۔

READ MORE FAQS

سوال: حوثیوں نے سعودی عرب پر کتنے فضائی حملوں کا الزام لگایا ہے؟
جواب: حوثی فوجی ترجمان کے مطابق سعودی عرب نے 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 28 فضائی حملے کیے۔

سوال: حوثیوں کے مطابق حملے کن علاقوں میں کیے گئے؟
جواب: حوثی ترجمان کے مطابق تعز، الجوف اور مأرب میں حملے کیے گئے۔

سوال: سعودی عرب نے حوثیوں کے حملوں کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے مغربی علاقوں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جنہیں فضائی دفاع نے ناکام بنایا۔

سوال: جان ریٹکلف کہاں پہنچے ہیں؟
جواب: امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے ہیں۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:32 AM
طلوع آفتاب05:55 AM
ظہر12:01 PM
عصر03:29 PM
مغرب06:07 PM
عشاء07:31 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6