سندھ کے 5 اضلاع میں اگست کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

سندھ میں پولیو وائرس کی تصدیق، ماحولیاتی نمونوں کی رپورٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سندھ کے 5 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

سندھ میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد صوبے کے 5 اضلاع میں انسداد پولیو اقدامات پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر سندھ کے مطابق اگست میں لیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں کراچی اور حیدرآباد کے بعض علاقوں سے پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آئی ہے۔

ای او سی سندھ کے مطابق کراچی کے ضلع غربی، کورنگی، وسطی اور جنوبی کے ایک، ایک ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس پایا گیا۔ اس کے علاوہ حیدرآباد کے 2 ماحولیاتی نمونوں میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متعلقہ علاقوں میں وائرس گردش کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسے اضلاع میں بچوں کو انسداد پولیو ویکسین پلانے، ویکسین سے محروم بچوں کی نشاندہی اور دیگر حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق کراچی کے ضلع شرقی، کیماڑی اور ملیر کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس نہیں پایا گیا۔ اسی طرح گھوٹکی، سکھر، جیکب آباد اور قمبر کے نمونے بھی منفی رہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاڑکانہ، کشمور، دادو، بدین، جامشورو، سجاول، میرپورخاص اور سانگھڑ کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

حکام کے مطابق مثبت نمونے سامنے آنے والے اضلاع میں انسداد پولیو ویکسینیشن کے عمل کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی ویکسینیشن، فیلڈ ٹیموں کی نگرانی، ویکسین سے رہ جانے والے بچوں کی دوبارہ کوریج اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دیگر اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ماحولیاتی نمونوں کی جانچ پولیو وائرس کی موجودگی کا اندازہ لگانے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے ان علاقوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں وائرس کی گردش کا امکان موجود ہو، تاکہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

حکام کی جانب سے والدین پر بھی زور دیا جاتا ہے کہ وہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر انسداد پولیو مہم کے دوران لازمی قطرے پلائیں۔ پولیو ویکسین بچوں کو مستقل معذوری سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ ویکسینیشن میں معمولی سی کمی بھی وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

سندھ کے مختلف اضلاع میں ماحولیاتی نمونوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد متعلقہ اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ مثبت نمونوں والے علاقوں میں ویکسینیشن مہم، آگاہی سرگرمیوں اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے سے پولیو وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ای او سی سندھ نے واضح کیا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسینیشن اور دیگر حفاظتی اقدامات کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ انسداد پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔

READ MORE FAQS

سوال: سندھ کے کتنے اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا؟
جواب: اگست کے ماحولیاتی نمونوں میں کراچی کے 4 اضلاع اور حیدرآباد کے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی، یوں مجموعی طور پر 5 اضلاع متاثرہ قرار پائے۔

سوال: کراچی کے کن اضلاع میں پولیو وائرس پایا گیا؟
جواب: ضلع غربی، کورنگی، وسطی اور جنوبی کے ایک، ایک ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس پایا گیا۔

سوال: حیدرآباد کے کتنے نمونوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی؟
جواب: حیدرآباد کے 2 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

سوال: کن اضلاع کے ماحولیاتی نمونے منفی رہے؟
جواب: ضلع شرقی، کیماڑی، ملیر، گھوٹکی، سکھر، جیکب آباد، قمبر، لاڑکانہ، کشمور، دادو، بدین، جامشورو، سجاول، میرپورخاص اور سانگھڑ کے نمونے منفی رہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:32 AM
طلوع آفتاب05:55 AM
ظہر12:01 PM
عصر03:29 PM
مغرب06:07 PM
عشاء07:31 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6