ٹرمپ نے ایران کے مؤقف کو مسترد کر دیا، کہا: مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرے تو بھی پروا نہیں

ڈونلڈ ٹرمپ ایران اور مفاہمتی یادداشت کے متعلق بیان دیتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرمپ نے ایران کے مؤقف کو مسترد کر دیا، کہا: مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرے تو بھی پروا نہیں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کے اعلان کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں اس فیصلے کی "بالکل بھی پروا نہیں”۔

امریکی ٹی وی نیٹ ورک نیوز نیشن کو دیے گئے مختصر ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے ایران کے حالیہ اعلان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا، "مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔”

ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران کویت کا فضائی دفاعی نظام
کویت کا فضائی دفاعی نظام مبینہ میزائلوں اور ڈرونز کے خطرات سے نمٹنے کے لیے متحرک ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ امریکا کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی پالیسی کا بنیادی محور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنا ہے اور اس معاملے پر امریکا اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ جون کے وسط میں ایک مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر اتفاق ہوا تھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ فوجی تصادم سے بچنا تھا۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے انتظام، بحری جہازوں کی آمدورفت اور علاقائی سلامتی سے متعلق اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں مفاہمتی یادداشت کی افادیت بھی متاثر ہوئی ہے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کا اعلان سامنے آ چکا ہے، جس کے بعد مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور سفارتی روابط کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان اور ایران کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلے دوبارہ بڑھ رہے ہیں، جبکہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کسی نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران کے مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کے اعلان کی کوئی پروا نہیں اور امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

سوال 2: امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کیا ہے؟
جواب: یہ ایک سفارتی فریم ورک ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور مذاکرات کو آگے بڑھانا تھا۔

سوال 3: امریکا کا ایران سے متعلق بنیادی مؤقف کیا ہے؟
جواب: امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔

سوال 4: اس بیان کے بعد خطے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
جواب: تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں