سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری ہوگا، غیر ضروری قیاس آرائیاں نہ کی جائیں: خواجہ آصف

سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری ہوگا خواجہ آصف
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری ہوگا، غیر ضروری قیاس آرائیاں نہ کی جائیں: خواجہ آصف

اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کی تقرری سے متعلق نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائے گا، اس حوالے سے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ قیاس آرائیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد وطن واپس آ رہے ہیں، اور ان کی واپسی کے بعد سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن بھی بروقت جاری کر دیا جائے گا۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں سی ڈی ایف کے عہدے سے متعلق غیر ضروری بحث چھیڑ دی گئی ہے، حالانکہ اس عہدے کی منظوری 27ویں آئینی ترمیم کے تحت پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ اس ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) کا عہدہ ختم ہو گیا ہے، اور اس کی جگہ نیا عہدہ “چیف آف ڈیفنس فورسز” قائم کیا گیا ہے، جو آرمی چیف کے منصب کے ساتھ یکجا ہوگا۔

سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن تاخیر کیوں؟

سیکیورٹی و قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ سی ڈی ایف ایک نیا آئینی و عسکری منصب ہے، اس لیے اس کے لیے علیحدہ اور باضابطہ نوٹیفکیشن ناگزیر ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلے آرمی چیف کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور نئی قانون سازی کے تحت وہ پانچ سالہ مدت کے لیے سی ڈی ایف کے طور پر بھی فرائض نبھائیں گے۔

باخبر ذرائع کے مطابق اصل قانونی الجھن یہ ہے کہ آرمی چیف کی پانچ سالہ مدت کا آغاز کس تاریخ سے تصور کیا جائے—

نومبر 2022 سے، جب فیلڈ مارشل منیر نے کمان سنبھالی تھی،
یا

نومبر 2025 سے، جیسا کہ کچھ حکومتی حلقے سمجھتے ہیں۔

اسی اختلافِ رائے کے باعث سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن میں جزوی تاخیر سامنے آئی ہے۔

نئے دفاعی ڈھانچے پر بھی سوالات

سی ڈی ایف تقرری کے نوٹیفکیشن میں تاخیر , 29 نومبر کی اہم ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد سولات
سی ڈی ایف نوٹیفکیشن میں تاخیر نے آرمی چیف کی مدت ملازمت اور نئے دفاعی ڈھانچے سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے۔

ذرائع کے مطابق دفاعی قیادت میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ سی ڈی ایف کو پاک فضائیہ اور پاک بحریہ پر کس حد تک کمانڈ اور انتظامی اختیار حاصل ہوگا۔
فوجی حکام چاہتے تھے کہ نئے عسکری ڈھانچے میں منتقلی کا عمل شفاف اور ہموار ہو، تاہم سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن میں تاخیر سے فوجی قیادت کو غیر ضروری دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا معاملہ بھی زیر التوا

سی ڈی ایف کے بعد ایک اور اہم تقرری نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ کی ہے، جو جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی نگہبانی کرے گا۔ یہ چار ستارہ عہدہ بھی نئے دفاعی سیٹ اپ کا حصہ ہے، اور حکام کے مطابق یہ تقرری بھی سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی آگے بڑھے گی۔

’قیاس آرائیاں ملک میں بے چینی بڑھاتی ہیں‘ — خواجہ آصف

وزیر دفاع نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ سیاسی و غیر سیاسی عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہیں حقیقت کے منافی ہیں۔
انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور سرکاری نوٹیفکیشن کا انتظار کریں۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]