ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں عمران خان پر شدید تنقید ، فوج مخالف بیانیہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں عمران خان پر شدید تنقید
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں عمران خان پر شدید تنقید، فوج مخالف بیانیہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار، رولنگ نیٹ ورک کا مقصد پاکستان میں انتشار پیدا کرنا اور عوام و فوج کے درمیان دراڑ ڈالنا ہے

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے قید میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو فوج مخالف بیانیہ تشکیل دینے اور اسے پھیلانے پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانیہ اب سیاست کے دائرے سے نکل کر قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک ایسا شخص جو خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے، افواج پاکستان کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلح افواج ریاست پاکستان کی محافظ ہیں اور اس کے خلاف ہرزہ سرائی دراصل ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند عناصر کی خواہشات اور ذاتی ایجنڈا ریاستی مفاد سے بڑھ کر دکھائی دے رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر چلنے والے منفی بیانیے کو افغانستان اور بھارت میں موجود ٹرولنگ نیٹ ورک تقویت دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارتی میڈیا مسلسل پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا مہم کو بڑھاوا دے رہا ہے اور پی ٹی آئی کا ایک مخصوص گروہ اس کے بیانیے کا حصہ بنا ہوا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات، جی ایچ کیو پر حملے، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی اور عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانا اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرولنگ نیٹ ورک کا مقصد پاکستان میں انتشار پیدا کرنا اور عوام و فوج کے درمیان دراڑ ڈالنا ہے لیکن ایسا کسی صورت ہونے نہیں دیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں کہا کہ پاک فوج عوام کے درمیان سے اُٹھی ہوئی فورس ہے، جس کے افسران اور جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ "جنہیں ملک سے اتنی محبت ہے تو اپنے بیٹوں کو بھی فوج میں بھیجیں، خوارج کے سامنے کھڑا ہونا آسان نہیں”، انہوں نے کہا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات، صدر مملکت کی وزیراعظم کی سمری منظور
صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی منظوری دے دی

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ فوج کسی کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں اور نہ ہی سیاسی تنازعات میں مداخلت چاہتی ہے، البتہ قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی بیانیے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین آزادی اظہار کی اجازت دیتا ہے مگر اداروں کے خلاف نفرت انگیزی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گورنر راج لگانا حکومتِ وقت کا اختیار ہے، فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی اتفاقِ رائے اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے دہشت گردی کے خلاف لڑ کر دنیا کو دکھایا کہ وہ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ “ایک کتے کے بھونکنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، حقیقت میں نقصان وہ کرتے ہیں جو دشمن کے بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں۔”

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]