ایف بی آر کا اہم فیصلہ، 23 اور 24 مئی کو تمام دفاتر کھلے رہیں گے

ایف بی آر دفاتر کے باہر سائن بورڈ اور سرکاری عمارت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایف بی آر کا اعلان، ٹیکس دہندگان کیلئے ہفتہ اور اتوار کو دفاتر کھولنے کا فیصلہ

ایف بی آر فیصلہ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے ایک اہم اور غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کے تمام ماتحت دفاتر ہفتہ 23 مئی اور اتوار 24 مئی 2026 کو بھی کھلے رہیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد ٹیکس سروسز کی فراہمی کو بہتر بنانا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اقدام کا اطلاق تمام فیلڈ دفاتر پر ہوگا جن میں ایل ٹی اوز (LTOs)، ایم ٹی اوز (MTOs)، سی ٹی اوز (CTOs) اور آر ٹی اوز (RTOs) شامل ہیں۔ ان تمام دفاتر میں معمول کے اوقات کار کے مطابق کام جاری رہے گا۔

فیصلے کا مقصد کیا ہے؟

ایف بی آر حکام کے مطابق یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے اور ٹیکس نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اکثر ٹیکس دہندگان کو فائلنگ، رجسٹریشن اور دیگر خدمات کے لیے دفاتر کے اوقات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث ایسے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو دفاتر کھولنے سے ان افراد کو بھی موقع ملے گا جو ہفتے کے دن مصروفیات کے باعث اپنے ٹیکس امور مکمل نہیں کر پاتے۔

کون سے دفاتر کھلے رہیں گے؟

اعلامیے کے مطابق ایف بی آر کے تمام ماتحت دفاتر کھلے رہیں گے، جن میں شامل ہیں:

  • Large Taxpayer Offices (LTOs)
  • Medium Taxpayer Offices (MTOs)
  • Corporate Tax Offices (CTOs)
  • Regional Tax Offices (RTOs)

ان تمام دفاتر میں ٹیکس سے متعلق تمام خدمات دستیاب ہوں گی۔

ٹیکس سروسز میں بہتری کی کوشش

ایف بی آر گزشتہ کچھ عرصے سے ٹیکس نظام میں اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن پر کام کر رہا ہے۔ آن لائن فائلنگ، ای فائلنگ سسٹم اور ڈیجیٹل ٹیکس ریکارڈ کے باوجود اب بھی کئی ٹیکس دہندگان کو فزیکل دفاتر سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

اسی تناظر میں ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سروس ڈلیوری کو بہتر بنایا جا سکے اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

غیر معمولی ورکنگ ڈیز

عام طور پر سرکاری دفاتر ہفتہ اور اتوار کو بند رہتے ہیں، تاہم خاص مواقع پر حکومت یا متعلقہ ادارے اضافی ورکنگ ڈیز کا اعلان کرتے ہیں۔ ایف بی آر کا یہ فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات سے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ٹیکس کلیکشن بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

معیشت پر اثرات

ٹیکس نظام کی بہتری کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے۔ ایف بی آر کے اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ ٹیکس وصولی میں بہتری آئے گی اور ٹیکس دہندگان کے مسائل میں کمی ہوگی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس سسٹم آسان اور قابل رسائی ہو تو زیادہ لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوتے ہیں۔

ٹیکس دہندگان کیلئے سہولت

ٹیکس دہندگان کو اکثر شکایات ہوتی ہیں کہ دفاتر کے اوقات محدود ہونے کی وجہ سے ان کے کام وقت پر مکمل نہیں ہو پاتے۔ اس فیصلے سے ان افراد کو خاص طور پر فائدہ ہوگا جو ہفتے کے دن کام یا کاروبار کی وجہ سے مصروف رہتے ہیں۔

ڈیجیٹل نظام کی طرف قدم

اگرچہ ایف بی آر ڈیجیٹل نظام کو فروغ دے رہا ہے، تاہم اب بھی کئی خدمات کے لیے فزیکل وزٹ ضروری ہوتا ہے۔ مستقبل میں توقع ہے کہ زیادہ تر خدمات مکمل طور پر آن لائن ہو جائیں گی، جس سے دفاتر پر بوجھ کم ہوگا۔

عوامی ردعمل

اس فیصلے پر ٹیکس دہندگان نے ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ کچھ افراد نے اسے مثبت قدم قرار دیا ہے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ بہتر یہ ہوگا کہ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا جائے تاکہ دفاتر جانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔

مجموعی طور پر ایف بی آر فیصلہ ٹیکس دہندگان کے لیے ایک مثبت اقدام ہے، جس سے انہیں اضافی دنوں میں سہولت حاصل ہوگی۔ یہ فیصلہ نہ صرف سروس ڈلیوری بہتر بنانے کی کوشش ہے بلکہ ٹیکس نظام میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم بھی سمجھا جا رہا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]