جی-9/2 غیرقانونی تعمیرات: سی ڈی اے پر دوہرا معیار اپنانے کے الزامات

جی-9/2 غیرقانونی تعمیرات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد جی-9/2 میں مبینہ غیرقانونی تعمیرات، شہریوں کا سی ڈی اے سے بلاامتیاز آپریشن کا مطالبہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تجاوزات کے خلاف آپریشنز جاری ہیں، تاہم سیکٹر جی-9/2 میں مبینہ غیرقانونی تعمیرات کے معاملے نے شہری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق جی-9/2 میں سی ڈی اے کے سرکاری فلیٹس کے اطراف بڑی تعداد میں اضافی کمرے، گیراج اور دیگر ڈھانچے تعمیر کیے گئے ہیں جنہیں مبینہ طور پر کرائے پر دے کر آمدن حاصل کی جا رہی ہے۔

سرکاری فلیٹس کے اطراف اضافی تعمیرات

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض سرکاری رہائش گاہوں کے باہر مستقل نوعیت کی تعمیرات کی گئی ہیں جنہوں نے نہ صرف سرکاری اراضی بلکہ پارکنگ، فٹ پاتھ اور عوامی جگہوں کو بھی متاثر کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ان میں سے بعض تعمیرات سرکاری اداروں کے ملازمین کی جانب سے کی گئی ہیں، جس کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

سی ڈی اے کی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں

دوسری جانب کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف رورل ایریاز، کچی آبادیوں اور دیگر علاقوں میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ہے۔حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران متعدد غیرقانونی ڈھانچے اور مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں تاکہ سرکاری زمین واگزار کرائی جا سکے۔

شہری حلقوں کے سوالات

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر عام علاقوں میں تجاوزات کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا سکتی ہیں تو ترقی یافتہ سیکٹروں میں موجود مبینہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق جی-9/2 سمیت دیگر سیکٹروں میں بھی سرکاری رہائش گاہوں کے باہر تعمیرات کی گئی ہیں جن سے نہ صرف شہری حسن متاثر ہو رہا ہے بلکہ ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

قانون کا یکساں اطلاق ضروری

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کا یکساں اطلاق یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی طبقے یا علاقے کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی عام شہری کی تعمیرات کو غیرقانونی قرار دے کر گرایا جا سکتا ہے تو سرکاری رہائش گاہوں کے باہر قائم تجاوزات کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم اور سی ڈی اے حکام سے اپیل

مقامی شہریوں نے شہباز شریف، چیئرمین سی ڈی اے اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ جی-9/2 اور دیگر ترقی یافتہ سیکٹروں میں موجود مبینہ تجاوزات کے خلاف فوری اور بلاامتیاز آپریشن کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں قانون کی عملداری اسی صورت ممکن ہے جب ہر طبقے کیلئے ایک جیسا معیار اپنایا جائے۔

شہری مسائل میں اضافہ

رہائشیوں کے مطابق اضافی کمروں اور گیراجز کی تعمیر سے علاقے میں پارکنگ کے مسائل بڑھ رہے ہیں جبکہ بعض جگہوں پر فٹ پاتھ اور گزرگاہیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ غیرمنظم تعمیرات شہر کے انفراسٹرکچر پر دباؤ بڑھاتی ہیں اور مستقبل میں مزید مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

تجاوزات کے خلاف پالیسی

سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد میں تجاوزات کے خاتمے کیلئے مختلف مہمات جاری رہتی ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ سرکاری زمین پر کسی بھی قسم کی غیرقانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان پالیسیوں پر عملدرآمد میں شفافیت اور برابری کو یقینی بنایا جائے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

جی-9/2 میں مبینہ غیرقانونی تعمیرات کی خبریں سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہیں جہاں شہری سی ڈی اے کی کارکردگی اور پالیسی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں میں صرف کمزور طبقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ بااثر حلقوں کے خلاف مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔

ماہرین کی رائے

شہری امور کے ماہرین کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات کے مسئلے کا حل صرف مستقل اور غیرجانبدارانہ کارروائیوں سے ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جیسے منصوبہ بند شہر میں غیرقانونی تعمیرات کو نظرانداز کرنا مستقبل میں بڑے شہری مسائل پیدا کر سکتا ہے۔جی-9/2 غیرقانونی تعمیرات کا معاملہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشنز پر اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سی ڈی اے ترقی یافتہ سیکٹروں سمیت پورے شہر میں بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائے تاکہ قانون کی بالادستی برقرار رہ سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]