ڈی جی آئی ایس پی آر نیشنل سکیورٹی ورکشاپ 2026 میں جامعات کے وائس چانسلرز سے خصوصی نشست

ڈی جی آئی ایس پی آر نیشنل سکیورٹی ورکشاپ 2026 میں وائس چانسلرز کی شرکت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ڈی جی آئی ایس پی آر نیشنل سکیورٹی ورکشاپ 2026 میں جامعات کی بھرپور شرکت

ڈی جی آئی ایس پی آر نیشنل سکیورٹی ورکشاپ 2026 کے تحت راولپنڈی میں ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان بھر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، ڈینز، رجسٹرارز اور سینئر اساتذہ نے شرکت کی۔ اس اہم ورکشاپ کا مقصد قومی سلامتی، انفارمیشن وارفیئر، داخلی استحکام اور جدید دور کے سکیورٹی چیلنجز پر اکیڈیمیا کو آگاہی فراہم کرنا تھا۔

ورکشاپ میں ملک بھر کی 200 سے زائد جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ لاہور، کراچی، پشاور، مظفرآباد، ملتان اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں سے شرکاء آن لائن بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے شرکاء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملک کی موجودہ داخلی صورتحال، قومی سلامتی اور سکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

قومی سلامتی اور اکیڈیمیا کا کردار

ورکشاپ کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں اکیڈیمیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے شرکاء کو انفارمیشن وارفیئر، فیک نیوز، سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور نوجوان نسل کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے بریفنگ دی۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ انہیں طلباء کو منفی پروپیگنڈا سے بچانے اور درست معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے واضح رہنمائی ملی ہے۔ اساتذہ نے اس امر پر زور دیا کہ جامعات کو قومی شعور اجاگر کرنے اور نوجوان نسل میں مثبت سوچ پیدا کرنے کیلئے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاک فوج کے کردار کو سراہا گیا

خصوصی نشست میں شریک وائس چانسلرز اور سینئر اساتذہ نے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان نے ملکی دفاع، سلامتی اور استحکام کیلئے ہمیشہ قابلِ فخر خدمات انجام دی ہیں۔

شرکاء نے کہا کہ پاکستان کو معرکہ حق میں عظیم کامیابی پاک افواج کی قربانیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور افواجِ پاکستان ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کا اعتماد

ورکشاپ میں شریک شرکاء نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ پاک فوج پر نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتی رہی ہیں۔

اساتذہ نے کہا کہ نوجوان نسل کو قومی تاریخ، کشمیر کاز اور ملکی سلامتی کے معاملات سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ دشمن کے منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔

انفارمیشن وارفیئر پر خصوصی گفتگو

ورکشاپ میں انفارمیشن وارفیئر کے موضوع پر خصوصی سیشن منعقد کیا گیا جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی غلط معلومات، فیک نیوز اور ذہنی جنگ کے جدید طریقوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

ماہرین نے بتایا کہ آج کے دور میں جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی مختلف ممالک کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں تعلیمی اداروں کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔

اکیڈیمیا اور افواجِ پاکستان کے درمیان رابطے کی اہمیت

شرکاء نے افواجِ پاکستان اور اکیڈیمیا کے درمیان رابطے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرامز کے ذریعے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو قومی سلامتی کے معاملات بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

وائس چانسلرز اور اساتذہ نے آئی ایس پی آر کے اس اقدام کو بے حد سراہا جس کے تحت ملک بھر کی جامعات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا۔

نوجوان نسل کی رہنمائی ضروری

ماہرین تعلیم کے مطابق پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا قیمتی سرمایہ ہے اور انہیں درست معلومات فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ورکشاپ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جامعات میں طلباء کو قومی سلامتی، سوشل میڈیا کے مثبت استعمال اور ملکی استحکام کے حوالے سے آگاہی دی جانی چاہیے۔

اساتذہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے سیشنز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ اکیڈیمیا اور قومی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]