وزیراعظم کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب، پاکستان کا دشمن اب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرے گا

وزیراعظم کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب، پاکستان کا دشمن اب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرے گا

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا دشمن اب بری نظر ڈالنے کی جرات نہیں کرے گا کیونکہ پاک فضائیہ کے شاہینوں اور فتح میزائلوں نے دشمن کو ایسا کرارا اور ناقابلِ فراموش سبق سکھایا ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ آج پاکستان کے بہادر بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان موجود ہیں اور قوم کو اپنے محافظوں پر فخر ہے جو ملکی خودمختاری اور سلامتی کے نگہبان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک سال قبل بھارتی اشتعال انگیزی کا سامنا کیا، بھارت نے پاکستان کی مخلصانہ اور سنجیدہ مذاکراتی پیشکش کو نظر انداز کرتے ہوئے کشیدگی اور جارحیت کا راستہ اپنایا، تاہم دشمن یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے۔

وزیراعظم کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کہنا تھا کہ پاک فضائیہ اور میزائل فورس نے دشمن کو مؤثر جواب دے کر واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن میں افسران اور جوانوں سے ملاقات کی

شہباز شریف نے کہا کہ آپریشن “غضب للحق” نے دشمن کے دل میں خوف پیدا کر دیا ہے اور یہ آپریشن پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے اور افغان طالبان کے زیر اثر دہشتگرد پراکسی عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

وزیراعظم نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے تاکہ خطے میں امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایران تنازع نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال اور معاشی کمزوری سے دوچار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دونوں فریقین کو مذاکرات کے ذریعے امن کی راہ اپنانے کا مشورہ دیا اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔

وزیراعظم کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے مشکور ہیں جنہوں نے پاکستان کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا۔

وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر بھی پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرتا رہے گا جبکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت قومی دفاع کے لیے ناگزیر ہے اور حکومت شفافیت، میرٹ اور دیانت داری پر مبنی ادارے تشکیل دے رہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری قوم اور حکومت پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]