جی ایچ کیو حملہ کیس میں 40 سے زائد ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

جی ایچ کیو حملہ کیس میں عدالت کی سماعت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کا بڑا اقدام، غیر حاضر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 40 سے زائد غیر حاضر ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت کا یہ اقدام کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی مسلسل عدم حاضری کے باعث سامنے آیا ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی، جس میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک اور اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کیس میں پیش رفت نہ ہونے اور متعدد ملزمان کے بار بار غیر حاضر رہنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے 40 سے زائد غیر حاضر ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری کارروائی کی ہدایت کی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مقدمے میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

سماعت کے دوران وکلائے صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد کیس سے متعلق ہدایات لینے کی اجازت دی جائے۔ وکلاء کا مؤقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر وہ مؤثر انداز میں عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

اس موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے وکلاء صفائی کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت ضمانت پر ہیں اور انسداد دہشت گردی عدالت کی تحویل میں نہیں بلکہ جیل سپرنڈنٹ کی تحویل میں ہیں، اس لیے ملاقات کے حوالے سے عدالتی کارروائی کو روکا نہیں جا سکتا۔

وکلاء صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک انہیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں دی جاتی، وہ عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس پر عدالت نے قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے وکلاء کو وڈیو لنک ٹرائل سے متعلق نوٹیفکیشن کی کاپی فراہم کر دی۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 20 جنوری تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور ملزمان کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس ایک حساس نوعیت کا مقدمہ ہے، جس میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی جاری ہے، اور عدالت اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]