مقامی اور عالمی مارکیٹ میں سونا سستا، خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری
سونے کی قیمت میں کمی نے ایک بار پھر مقامی صرافہ بازار میں خریداروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ پاکستان میں فی تولہ سونا 3 ہزار روپے سستا ہونے کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 88 ہزار 462 روپے کی سطح پر آ گئی ہے، جو حالیہ دنوں میں ایک نمایاں کمی سمجھی جا رہی ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی قیمت میں کمی کے باعث 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2572 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 18 ہزار 777 روپے ہو گئی ہے۔ یہ کمی ان افراد کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے جو سونے کی خریداری کا ارادہ رکھتے تھے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور فی تولہ چاندی 7744 روپے پر برقرار رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاندی کی مارکیٹ نسبتاً مستحکم ہے جبکہ سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں فی اونس سونا 30 ڈالر سستا ہو کر 4657 ڈالر پر آ گیا ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں یہ کمی مقامی مارکیٹ پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی معاشی حالات، ڈالر کی قیمت اور سرمایہ کاروں کے رجحانات سے جڑی ہوئی ہے۔ جب عالمی سطح پر سونے کی طلب کم ہوتی ہے یا سرمایہ کار دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو سونے کی قیمتوں میں کمی آتی ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جب فی تولہ سونا 1100 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 91 ہزار 462 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 943 روپے اضافے کے ساتھ 4 لاکھ 21 ہزار 349 روپے ہو گئی تھی۔
تاہم آج کی سونے کی قیمت میں کمی نے اس اضافے کو جزوی طور پر ختم کر دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں ایک بار پھر توازن پیدا ہونے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اس طرح کا اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، کیونکہ یہ عالمی حالات، کرنسی کی قدر اور سرمایہ کاروں کے فیصلوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے خریداروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔
پاکستان میں سونا روایتی طور پر سرمایہ کاری اور زیورات کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی یا اضافہ عوام کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں سونے کی قیمتوں میں کمی خریداروں کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہوتی ہے۔
سونے کی قیمت میں کمی کے اثرات نہ صرف خریداروں بلکہ جیولرز پر بھی پڑتے ہیں۔ قیمتوں میں کمی کے باعث خریداروں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، جس سے کاروبار میں بہتری آ سکتی ہے۔
تاہم، کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق اپڈیٹس جاری کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ عوام کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مستند ذرائع سے قیمتوں کی معلومات حاصل کریں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سونے کی قیمت میں کمی ایک اہم معاشی پیش رفت ہے، جو نہ صرف خریداروں کے لیے خوشخبری ہے بلکہ مارکیٹ میں ایک نئی سرگرمی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اگر عالمی حالات مستحکم رہتے ہیں تو مستقبل میں سونے کی قیمتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے

