ایمان مزاری گرفتاری پر صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی کی وضاحت

ایمان مزاری گرفتاری پر صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی کا بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ہم نے جان بوجھ کر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پولیس کے حوالے نہیں کیا، صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار

ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کے بعد صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن واجد گیلانی کی وضاحت سامنے آ گئی ہے، جس میں انہوں نے تمام تر الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہائیکورٹ بار یا ان کی جانب سے جان بوجھ کر کسی بھی وکیل کو پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو اور وکلا برادری سے خطاب کرتے ہوئے صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے نہایت دو ٹوک مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا،
“میں درودِ شریف پڑھ کر قسم کھاتا ہوں کہ ہم نے جان بوجھ کر ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ کو پولیس کے حوالے نہیں کیا۔ جو لوگ مجھ پر یا اسلام آباد ہائیکورٹ بار پر الزام لگا رہے ہیں، وہ دراصل اپنے جنازوں کو رو رہے ہیں۔”

واجد گیلانی کے اس بیان کو وکلا برادری میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ گزشتہ چند دنوں سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری میں اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے بعض عہدیداران کا کردار تھا۔ صدر ہائیکورٹ بار کی اس وضاحت نے ان الزامات پر شدید سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف درج مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں دائر کی جا چکی تھیں۔ ان کے مطابق اس وقت عدالت میں ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی تھی، کیونکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور رجسٹرار (سیکرٹری) پہلے ہی جا چکے تھے، جبکہ پولیس کی بھاری نفری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔

واجد گیلانی کا کہنا تھا کہ اس نازک صورتحال میں انہوں نے وکلا کی جان و مال کے تحفظ اور ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے دفتر منتقل کیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام کسی دباؤ یا ملی بھگت کے تحت نہیں بلکہ حالات کو قابو میں رکھنے اور قانونی راستہ اختیار کرنے کے لیے کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی موجودگی کے باعث ماحول انتہائی کشیدہ ہو چکا تھا اور کسی بھی وقت صورتحال بگڑ سکتی تھی۔ ایسے میں بار ایسوسی ایشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ارکان کے تحفظ کو یقینی بنائے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے معاملے کو آگے بڑھائے۔

صدر ہائیکورٹ بار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایک آئینی اور خودمختار ادارہ ہے، جس کا مقصد وکلا کے حقوق کا تحفظ اور عدالتی نظام کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن کسی بھی صورت پولیس یا کسی اور ادارے کی سہولت کار نہیں بن سکتی۔

واجد گیلانی نے الزام تراشی کرنے والوں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ بغیر حقائق کے الزامات لگانا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس سے وکلا برادری میں تقسیم اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے۔

قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر وکلا، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعلقات پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے میں پولیس کی موجودگی اور گھیراؤ ایک غیر معمولی اقدام تھا، جس پر وضاحت اور شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وکلا تنظیموں کے بعض نمائندوں نے صدر ہائیکورٹ بار کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واجد گیلانی نے انتہائی مشکل حالات میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صورتحال تصادم کی شکل اختیار کر سکتی تھی، جس کے نتائج سنگین ہو سکتے تھے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے معاملے نے پہلے ہی سوشل میڈیا اور قانونی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کر رکھا ہے۔ ایسے میں صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی وضاحت کو معاملے کی وضاحت اور غلط فہمیوں کے ازالے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس واقعے پر مزید قانونی اور ادارہ جاتی بحث متوقع ہے، جبکہ وکلا برادری کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ عدالتوں کے تقدس، وکلا کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

مجموعی طور پر صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی کی وضاحت نے اس تاثر کو مسترد کرنے کی کوشش کی ہے کہ بار ایسوسی ایشن نے کسی بھی وکیل کو جان بوجھ کر پولیس کے حوالے کیا۔ ان کے بقول، تمام اقدامات حالات کے تناظر میں اور قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کیے گئے، اور کسی بھی قسم کی بدنیتی یا سازباز کا الزام بے بنیاد ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]