کراچی نیپا چورنگی میں 3 سالہ بچہ مین ہول میں گر کر لاپتا، شہریوں کا شدید احتجاج، ہجوم کا پولیس اور میڈیا پر پتھراؤ، ریسکیو کارروائیاں متاثر
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ بچہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال لاپتا ہے، جس کے بعد مشتعل شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی روڈ اور اطراف کی سڑکیں بلاک کر دیں۔ ہجوم نے پولیس اور میڈیا پر پتھراؤ بھی کیا، جس سے گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور ریسکیو کارروائیاں متاثر ہوئیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان احسانُ الحسیب خان کے مطابق اتوار کی رات 10 بجے واقعے کی اطلاع ملی۔ نیپا چورنگی میں 3 سالہ بچہ مین ہول میں گرنے سے پہلے اپنے والدین کے ساتھ خریداری کے لیے ایک نجی ڈپارٹمنٹل اسٹور آیا تھا اور باہر نکلتے ہی بغیر ڈھکن والے مین ہول میں جا گرا۔
ترجمان نے بتایا کہ عام طور پر رات کے وقت زیرِ زمین تلاش میں مشکلات کی وجہ سے آپریشن نہیں کیا جاتا، تاہم شدید عوامی دباؤ اور والدین کی حالت دیکھتے ہوئے ریسکیو اہلکاروں نے فوری سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ بھاری مشینری کی مدد سے پانچ مقامات پر کھدائی بھی کی گئی مگر بچے کا سراغ نہیں ملا۔
ریسکیو ٹیم نے واٹر بورڈ اور متعلقہ حکام سے نکاسیِ آب کے نظام کا مکمل نقشہ طلب کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ پانی کا بہاؤ کس سمت میں جاتا ہے اور یہ کہ نیپا چورنگی میں 3 سالہ بچہ مین ہول میں گر کر کس مقام تک پہنچ سکتا ہے۔
لاپتا بچہ شاہ فیصل کالونی کا رہائشی ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ ”بیٹا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور میری آنکھوں کے سامنے گٹر میں جا گرا، مین ہول پر ڈھکن نہیں تھا۔“
نیپا چورنگی میں 3 سالہ بچہ مین ہول گرنے کے بعد شہریوں نے نیپا چورنگی اور حسن اسکوائر جانے والی سڑک بلاک کردی جبکہ جامعہ کراچی اور گلشن چورنگی کی جانب ٹریفک بھی معطل رہی۔ پتھراؤ کے باعث میڈیا، پولیس اور ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں آپریشن روک دیا گیا۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا کہ مین ہول کا ڈھکن غائب ہونے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے اور بچے کی فوری تلاش کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں کھلے گٹروں اور مین ہولز کے باعث ہلاکتوں کے متعدد واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ رواں سال مختلف علاقوں میں کمسن بچوں، بچیوں اور صفائی کے ورکرز کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان ہنگامی بیان
کراچی، نیپا چورنگی پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون کا بچہ کھلے مین ہول میں گر گیا۔ بے سہارا ماں کی تڑپ، چیخیں اور بے بسی پورے نظامِ حکمرانی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ شہر کے وسط میں کھلے مین ہولز کا ہونا سنگین غفلت ہے۔
ہیومن رائٹس… pic.twitter.com/rFRc8lhJAb
— Human Rights Council of Pakistan (@HRCPakistan) November 30, 2025










