سمندری طوفان دتوا: جنوبی ایشیا پر قدرتی آفت کا سلسلہ
سمندری طوفان دتوا نے سری لنکا کو بری طرح متاثر کرنے کے بعد اب بھارت کی طرف رخ کیا ہے۔ یہ طوفان، جو 26 نومبر 2025 کو شروع ہوا، اب تک ایک تباہ کن شکل اختیار کر چکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سمندری طوفان دتوا آج (30 نومبر 2025) بھارت کے جنوبی ساحلی علاقوں سے ٹکرانے والا ہے، جس سے تامل ناڈو اور آس پاس کی ریاستوں میں شدید بارشیں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
سری لنکا میں سمندری طوفان دتوا کی وجہ سے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی، جہاں شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 153 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئیں، جبکہ شمالی اور مشرقی علاقوں میں 300 ملی میٹر تک بارش ہوئی۔ اب جبکہ سمندری طوفان دتوا بھارت کی طرف بڑھ رہا ہے، وہاں کے ساحلی علاقوں میں نشیبی زونز زیر آب آ گئے ہیں اور 50 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
یہ قدرتی آفت نہ صرف انسانی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی معیشت اور ماحولیات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
سمندری طوفان دتوا کی تشکیل اور شدت
سمندری طوفان دتوا شمالی بحیرہ ہند کے طوفانوں کے موسم کا حصہ ہے، جو اپریل سے دسمبر تک جاری رہتا ہے۔ انڈیا میٹیورولوجیکل ڈپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) کے مطابق، یہ ڈپریشن 26 نومبر کو سری لنکا کے جنوب مشرقی ساحل سے شروع ہوا اور جلد ہی سائیکلونک سٹورم کی شکل اختیار کر گیا۔ طوفان کی رفتار 7 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، اور اس کی ونڈز 65 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہیں۔
سری لنکا کے میٹیورولوجی ڈپارٹمنٹ نے خبردار کیا تھا کہ طوفان 27 نومبر کو جزیرے پر لینڈ فال کرے گا، جو بالکل سچ ثابت ہوا۔ طوفان کی وجہ سے جزیرے بھر میں ریکارڈ بارش ہوئی، جو گزشتہ دہائی کی سب سے زیادہ تھی۔ مرکزی اور مشرقی اضلاع میں 300 ملی میٹر سے زائد بارش نے لینڈ سلائیڈنگ کو ہوا دی، جس سے پہاڑی علاقوں میں تباہی پھیل گئی۔
اب سمندری طوفان دتوا بھارت کی طرف شمال کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں یہ ودارنیم ساحل (Vedaranyam coast) کے قریب پہنچنے والا ہے۔ آئی ایم ڈی نے شمالی تامل ناڈو کے لیے شدید بارش کا انتباہ جاری کیا ہے، جو 30 نومبر کو عروج پر ہوگا اور 1 دسمبر سے کم ہونا شروع ہو جائے گا۔
سری لنکا میں سمندری طوفان دتوا کی تباہ کاریاں
سری لنکا میں سمندری طوفان دتوا نے 28 نومبر سے اپنی شدت دکھانی شروع کی۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سنٹر (ڈی ایم سی) کے مطابق، طوفان نے 15,000 سے زائد گھر تباہ کر دیے، جبکہ 44,000 افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کرنا پڑا۔ ہلاکتوں کی تعداد 153 تک پہنچ گئی، جبکہ 191 افراد لاپتہ ہیں۔
زیادہ تر اموات لینڈ سلائیڈنگ سے ہوئیں، خاص طور پر کندی (Kandy) اور ویلایم پٹیہ (Wellampitiya) جیسے اضلاع میں۔ کیلانی ندی (Kelani River) کے کناروں پر رہنے والے لوگوں کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا، کیونکہ ندی کے ب bund ٹوٹ گئے اور پانی دارالحکومت کولمبو کی طرف بہنے لگا۔ سکول بند کر دیے گئے، ٹرین سروسز معطل ہوئیں، اور کولمبو کے بینڈرینائیک انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 15 پروازیں بھارت کے ترووانڈرم اور کوچن ایئرپورٹس پر ڈائی ورٹ ہوئیں۔
ایئر فورس نے ہیلکاپٹرز سے متاثرین کو نکالا، جن میں کئی خاندان چھتوں پر پھنسے تھے اور ایک شخص ناریل کے درخت پر چڑھا ہوا تھا۔ حکومت نے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی، اور سری لنکنز سے بیرون ملک سے نقد امداد مانگی۔ صدر انورا کمارا ڈسسانایکے نے ایمرجنسی نافذ کر دی، جبکہ آبپاشی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل اے۔ گوناسیکا نے کہا کہ "طوفان ختم ہو رہا ہے، لیکن ہمارے لیے ابھی ختم نہیں ہوا۔”
زرعی نقصان بھی شدید ہے؛ 200,000 سے زائد لوگوں کے کھیت اور فصلیں تباہ ہوئیں، جو سری لنکا کی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔
بھارت میں سمندری طوفان دتوا کے اثرات اور تیاریاں
سمندری طوفان دتوا کے بھارت پہنچنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ تامل ناڈو کے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، اور 50 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ ریجنل میٹیورولوجیکل سنٹر (آر ایم سی) نے پیش گوئی کی ہے کہ شمالی تامل ناڈو میں شدید بارش ہوگی، جبکہ آندھرا پردیش اور کیرالہ میں بھی الرٹ جاری ہے۔
چنئی اور پڈوچری سے 330-430 کلومیٹر دور طوفان کا مرکز ہے، جو تیزی سے قریب ہو رہا ہے۔ حکومت نے 28 ڈیزاسٹر رسپانس ٹیمز تعینات کی ہیں، اور نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ایم کے سٹالن نے ڈی ایم کے کارکنوں کو لوگوں کی مدد کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔
کنگان اور گجرات کے ساحل پر نارنجی اور پیلے انتباہات جاری ہیں، جبکہ کیرالہ میں وسیع بارش کی توقع ہے۔ انڈین ایئر فورس نے آپریشن ساگر بندھو کے تحت سری لنکا کو امداد بھیجی، اور اب بھارت میں بھی ریلیف مواد تیار ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سری لنکا کو مزید امداد کی پیشکش کی، کہتے ہوئے کہ "ہم ہمسایہ فرسٹ پالیسی کے تحت سری لنکا کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
سمندری طوفان دتوا اور موسمیاتی تبدیلی کا تعلق
سمندری طوفان دتوا جیسی آفتیں موسمیاتی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ شمالی بحیرہ ہند میں طوفانوں کا موسم مئی سے نومبر تک ہوتا ہے، لیکن 2025 میں یہ ابتدائی طور پر شدید ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری درجہ حرارت میں اضافہ طوفانوں کی شدت بڑھا رہا ہے۔
سری لنکا اور بھارت دونوں ممالک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا شکار رہے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مزید خراب ہو رہے ہیں۔ عالمی سطح پر، ایسے طوفانوں سے ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، اور جنوبی ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہے۔
امدادی کارروائیاں اور بین الاقوامی تعاون
سمندری طوفان دتوا کے بعد امداد کی کارروائیاں تیز ہیں۔ انڈیا نے 21 ٹن ریلیف مواد، 80 این ڈی آر ایف اہلکار اور 8 ٹن سامان سری لنکا بھیجا۔ آئی این ایس وکرنت اور آئی این ایس اودیگیری نے کولمبو میں امداد فراہم کی۔
سری لنکا نے عالمی امداد مانگی، اور آسٹریلیا، جاپان اور یورپ سے مدد کی توقع ہے۔ بھارت میں بھی لوکل حکومتوں نے ریسکیو آپریشنز شروع کر دیے ہیں، جبکہ ریلوے اور سڑکوں پر پابندیاں عائد ہیں۔
مستقبل کے خطرات اور احتیاطی تدابیر
سمندری طوفان دتوا ختم ہونے کے بعد بھی اثرات جاری رہیں گے۔ سری لنکا میں مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، جبکہ بھارت میں سیلاب 1 دسمبر تک رہیں گے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگ اونچی جگہوں پر جائیں، اور حکومتوں کو ابتدائی انتباہی نظام مضبوط کریں۔
تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش: سیلاب سے 19 ہلاک، ہٹ یائی شہر تباہ
سمندری طوفان دتوا نے سری لنکا کو تباہ کر دیا اور اب بھارت کو چیلنج کر رہا ہے۔ 153 ہلاکتیں، ہزاروں بے گھر، اور معاشی نقصانات اس کی شدت بتاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کو ایسے طوفانوں کا سامنا جاری رکھنا ہوگا، لیکن تعاون اور تیاری سے نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔










Comments 2