خیبرپختونخوا سیلاب زدہ علاقے: وبائی امراض اور علاج کی صورتحال 2025

خیبرپختونخوا سیلاب زدہ علاقے وبائی امراض
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

خیبرپختونخوا سیلاب زدہ علاقوں کی صورتحال

خیبرپختونخوا کے حالیہ سیلاب نے نہ صرف انفراسٹرکچر اور رہائشی نظام کو نقصان پہنچایا بلکہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے خطرے کو بھی بڑھا دیا ہے۔ محکمہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق، اب تک 164,000 سے زائد مریضوں کو علاج معالجہ فراہم کیا جاچکا ہے۔

ہیضہ اور دیگر وبائی امراض میں اضافہ

ہیضہ کی وبا نے متاثرہ اضلاع میں سب سے زیادہ تشویش پیدا کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2,506 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 116 خونی ہیضہ کے مریض بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ کیسز دیرلوئر (823)، سوات (591)، بونیر (319) اور باجوڑ (262) میں سامنے آئے۔

ڈینگی اور ملیریا کے پھیلاؤ کی تفصیل

ڈینگی اور ملیریا کے مریض بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ شانگلہ میں ملیریا کے 80 کیسز، دیر لوئر میں 16، سوات میں 14، جبکہ ڈینگی کے کیسز صوابی، دیرلوئر اور باجوڑ میں رپورٹ ہوئے۔ یہ صورت حال صحت کے نظام پر بڑا دباؤ ڈال رہی ہے۔

جلدی اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ

خارش، دانے اور دیگر جلدی امراض میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تورغر میں 172، شانگلہ میں 128 اور بونیر میں 117 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح نزلہ، زکام اور سانس کی بیماریوں کے مجموعی طور پر 2,245 کیسز سامنے آئے۔

محکمہ صحت کی رپورٹ اور اقدامات

سیکرٹری صحت شاہد اللہ کے مطابق، سیلاب زدہ علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیمیں اور موبائل اسپتال تعینات ہیں۔ سانپ اور کتوں کے کاٹنے کے 35 واقعات بھی رپورٹ ہوئے جن کے لیے ویکسین متاثرہ علاقوں میں بھجوائی گئی ہے۔

نفسیاتی مسائل اور متاثرین کی بحالی

سیلاب زدہ علاقوں میں جسمانی امراض کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین نفسیات پر مشتمل ٹیمیں متاثرین کو مشاورت اور علاج فراہم کر رہی ہیں تاکہ ان کے ذہنی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

مستقبل کے چیلنجز

خیبرپختونخوا کے سیلاب زدہ علاقے اب صرف مادی نقصان سے نہیں بلکہ صحت عامہ کے بڑے بحران سے بھی دوچار ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وبائی امراض کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے مقامی اور قومی سطح پر صحت کا نظام متاثر ہوگا۔

READ MORE FAQs.

سیلاب زدہ علاقوں میں سب سے زیادہ کون سا مرض پھیل رہا ہے؟

ہیضہ سب سے زیادہ پھیلنے والا مرض ہے جس کے 2,506 کیسز رپورٹ ہوئے۔

محکمہ صحت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟

موبائل اسپتال قائم کیے گئے ہیں، ٹیمیں موجود ہیں اور ویکسین متاثرہ علاقوں میں بھجوائی گئی ہیں۔

نفسیاتی امراض میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟

سیلاب سے متاثرہ افراد میں صدمہ، خوف اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے نفسیاتی مسائل بڑھ گئے ہیں۔

کتنے مریضوں کا علاج کیا جاچکا ہے؟

اب تک 164,000 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جاچکی ہے۔

خیبر پختونخوا میں بارشوں کے باعث مختلف حادثات
خیبر پختونخوا میں بارشوں کے باعث مختلف حادثات، گھروں کی تباہی اور امدادی سرگرمیاں جاری۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]