لاہور میں منکی پاکس وائرس کی تشویشناک کیفیت 5 مریض سامنے آ گئے

لاہور میں منکی پاکس وائرس کے مریض اور وائرس کی تشویشناک تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لاہور میں منکی پاکس جنرل ہسپتال اور میو ہسپتال میں تصدیق شدہ کیسز

لاہور کے شہریوں کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے: لاہور میں منکی پاکس وائرس کے پانچ مریض تصدیق شدہ ہیں۔ یہ اطلاع نہ صرف مقامی طبی مراکز بلکہ پورے معاشرے میں خوف و بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔ درج ذیل میں ہم تفصیل سے جانیں گے کہ یہ وائرس کیا ہے، لاہور میں اس کی تشخیص کیسے ہوئی، اور شہریوں کو کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔

منکی پاکس کیا ہے؟

منکی پاکس ایک وائرس ہے جو منجھلے شیپ کی بیماری سے ملتا جلتا ہے۔ یہ عام طور پر ایسے علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں جانور، خاص طور پر چھوٹے جنگلی جانور، اس وائرس کو پھیلا سکتے ہیں۔ انسانی متاثرہ معاملے کم ہوتے ہیں، مگر جب ہو جائیں تو ہلکی سے لے کر شدید بیماری کا باعث بن سکتے ہیں۔ لاہور میں منکی پاکس کے کیسز کی اطلاع اس لیے خطرے کی گھنٹی ہے کہ شہری آبادی میں اس کی منتقلی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

لاہور میں منکی پاکس کیسز کی تفصیلات

صوبائی طبی ذرائع کے مطابق یہ پانچ کیسز مختلف ہسپتالوں میں رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے کچھ کیٹیگری زیادہ پیچیدہ ہے۔

دو مریض جنرل ہسپتال میں آئے جہاں منکی پاکس کی تشخیص ہوئی۔

دوسرے دو مریض میو ہسپتال میں سرجری کے بعد منکی پاکس وائرس کا شکار ہوئے۔

ایک مریض، 24 سالہ محمد ریاض، میو ہسپتال میں سرجری کے بعد وائرس کی زد میں آیا۔

42 سالہ نجمہ پروین بھی سرجری کے فوراً بعد انڈیکٹ ہوئی ہیں۔

یہ واقعہ خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ سرجری کے بعد انفیکشن کی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں، اور ایسے مریض دیگر افراد کے لیے متعدی خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔

کیا واقعی یہ “پلاسٹک کے انڈے” جیسا گمان ہے؟

کئی شہری یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ “پلاسٹک کے انڈے” کھا رہے ہیں، یعنی وہ انڈے جن کی ساخت مختلف ہوتی ہے۔ مگر ماہرین کا موقف ہے کہ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ لاہور میں منکی پاکس کے معاملے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے — ہر تبدیلی کا مطلب نقلی انڈے نہیں ہوتا۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے محسن بھٹی نے واضح کیا کہ انڈے کی ساخت میں تبدیلی دراصل سرد خانے (کولڈ اسٹوریج) کی وجہ سے آتی ہے، نہ کہ یہ کوئی پلاسٹک انڈہ ہے۔

غذائی ماہرین کی وضاحت

غذائی ماہرین بتاتے ہیں کہ پولٹری فارموں پر بعض اوقات مرغی کے انڈے ہفتوں کے لیے اسٹور کیے جاتے ہیں۔ اس دوران انڈوں کی سفیدی اور زردی کی ساخت میں نرمی یا لچک آ جاتی ہے، جو لوگوں کو گمراہ کر دیتی ہے۔

یہی وہ مقامات ہیں جہاں پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان آسانی سے غلط کی جاتی ہے، کیونکہ ظاہری شکل کچھ حد تک بدل جاتی ہے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں، پلاسٹک انڈے محض ایک افواہ ہیں — انڈے ابالنے یا فرائی کرنے پر پلاسٹک کی طرح نہیں رہتے۔

منکی پاکس کے امکانات اور خطرے

لاہور میں منکی پاکس کی اطلاع کے بعد عوامی صحت کا نظام الرٹ پر ہے۔ وائرس کی منتقلی کے چند بنیادی راستے درج ذیل ہیں:

جنگلی جانوروں سے رابطہ — حیاتیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ وائرس جانوروں، خاص طور پر جنگلی ممالیہ سے انسانوں میں آسکتا ہے۔

متعدی رابطہ — متاثرہ مریض کی جلدی خراشیں اور زخم وائرس پھیلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

سپتال یا سرجری کے بعد انفیکشن — جیسا کہ لاہور کے دو کیسز میں دیکھا گیا ہے، سرجری کے بعد انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

شہریوں کو کن اقدامات کی ضرورت ہے؟

ہاتھوں کی صفائی: بار بار ہاتھ دھونا اور سینیٹائزر کا استعمال کریں۔

گھریلو جانوروں سے احتیاط: جنگلی جانوروں یا پالتو جانوروں کے زخموں سے براہِ راست رابطہ نہ کریں۔

سرجری کے بعد معائنہ: اگر آپ نے حال ہی میں سرجری کروائی ہے، تو انفیکشن یا غیر معمولی علامات کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اگر علامات ہوں تو رپورٹ کریں: بخار، دانے، یا جلدی خراشیں جیسے علامات نظر آئیں تو ہسپتال جائیں اور اپنی تاریخ بتائیں۔

حکومت اور صحت کے حکام کا ردِعمل

صوبائی صحت ذرائع اور پولیس دونوں الرٹ پر ہیں۔ لاہور میں منکی پاکس کی وجہ سے متعلقہ ہسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وائرس کے شبے والے مریضوں کو الگ وارڈز میں رکھیں اور ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔

مزید برآں، فوڈ اتھارٹی اور ماحولیات کے ادارے مل کر عوامی آگاہی مہم چلائیں گے تاکہ لوگ پلاسٹک انڈوں کی افواہوں اور حقیقت کے فرق کو جان سکیں۔

راولپنڈی میں موسم سرما کے باعث ڈینگی میں واضح کمی

نتیجہ: خوف کے بجائے ہوشیاری

افواہوں اور تشویش کے درمیان، لاہور میں منکی پاکس کے پانچ کیسز ایک سنجیدہ یاد دہانی ہیں کہ صحت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ساتھ ہی ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر خبر خوف کی بات نہیں ہوتی۔

پلاسٹک کے انڈوں کی بحث اور منکی پاکس دونوں معاملے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ معلومات کی تصدیق اور ماہرین کی بات کو سننا ضروری ہے۔ پلاسٹک کے انڈوں کی پہچان اور وائرس کے خطرے کے بارے میں صحیح معلومات عام کرنا، ہمیں خوف کے بجائے ہوشیاری کی راہ پر لے جائے گا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]