پاکستان کا کرغزستان کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی دینے کا اعلان ، 2 روزہ سرکاری دورے میں 15 معاہدوں پر دستخط، یہ پیشکش کرغزستان صدر اپنے دو روزہ پہلے سرکاری دورے پر پاکستان آنے پر ہوئی۔
اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خشکی میں گھِرے ہوئے ملک کرغزستان کو اپنی سمندری بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے پاکستان کا کرغزستان کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی کی پیشکش اسلام آباد میں کرغزستان کے صدر سادِر ژاپاروف کے ساتھ اہم ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کی۔
کرغز صدر اپنے دو روزہ پہلے سرکاری دورے پر گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے، جو کہ 20 برس بعد کسی کرغیز صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ وزیر اعظم نے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ”غیر معمولی پیش رفت“ قرار دیا۔
پاکستان کا کرغزستان کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی جس کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی
وزیرِ اعظم نے کہا کہ کرغزستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے، لہٰذا پاکستان اسے کراچی، بن قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے تجارتی راستے فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، پاکستان کا کرغزستان کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی سے نہ صرف خطے میں تجارت بڑھے گی بلکہ پاک–کرغز اقتصادی روابط بھی مضبوط ہوں گے۔
دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم
شہباز شریف نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ”نتیجہ خیز بات چیت“ میں سیاسی، تجارتی، توانائی، زرعی، دفاعی، ثقافتی، تعلیمی اور رابطہ کاری کے شعبوں میں بھرپور تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے ازلی تعلقات صدیوں پر محیط قافلوں، روایات اور روحانی وابستگیوں پر قائم ہیں۔
تجارت کو 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ آج بعد میں ایک اہم بزنس فورم منعقد ہوگا، جس میں 20 کروڑ ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ 1.5 سے 1.6 کروڑ ڈالر کی تجارت کو اگلے دو برس میں بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جایا جائے گا۔
واضح رہے کہ 2022–23 میں دونوں ممالک کی تجارت 1 کروڑ 12 لاکھ ڈالر تھی، جو 2024–25 میں کم ہوکر 51 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہ گئی۔
تعلقات کو "قراقرم اور آلا ٹو پہاڑوں کا ملاپ” قرار
وزیرِ اعظم نے کہا کہ آج کی ملاقات دو برادر اقوام کے درمیان عام ملاقات نہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ”قدیم قراقرم اور عظیم آلا ٹو پہاڑ ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہوں“۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات میں نئی جان ڈالے گا اور آنے والے برسوں میں تعاون کے تمام شعبوں میں مضبوط تحریک فراہم کرے گا۔

15 اہم معاہدوں اور مشترکہ اعلامیہ پر دستخط
وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں پاکستان اور کرغزستان نے تجارت، توانائی، صحت، تعلیم، سرمایہ کاری، آئی ٹی، ڈیجیٹل فنانس اور دیگر شعبوں میں 15 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے وزرا، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ژاپاروف موجود تھے۔
دستخطوں کے بعد جامع تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔
اسحٰق ڈار کی ملاقاتیں اور دفتر خارجہ کی تفصیلات
دورے کے آغاز پر ڈپٹی وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے کرغز صدر سے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسحٰق ڈار نے پاکستانی قیادت کا پیغام اور نیک تمنائیں پہنچائیں اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔
گزشتہ روز انہوں نے کرغز وزیرِ خارجہ زینبیک کولو بایف سے بھی اہم مشاورت کی تھی۔
اعتماد اور امید کا پیغام
وزیرِ اعظم نے کرغز صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
"اللہ کرے کہ کرغزستان کا روشن سورج اور پاکستان کے چاند تارے کی روشنی مل کر ہمارے خطے کے لیے امن، مشترکہ خوشحالی اور امید کا نیا دور لے کر آئے۔”
براہِ راست:کرغستان اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب https://t.co/hauuVjkfWJ
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) December 4, 2025
2 Responses