پاکستان اور متحدہ عرب امارات تعلقات: وزیراعظم شہباز شریف کی یو اے ای سفیر سے اہم ملاقات
اسلام آباد:
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قائم دیرینہ، مضبوط اور برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں جو باہمی احترام، دوستی، اعتماد اور قریبی تعاون کی بنیاد پر استوار ہیں۔ وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان کے متوقع دورۂ پاکستان کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے نومنتخب سفیر سالم محمد سالم البواب الزابی سے ملاقات کے دوران کیا، جو منگل کے روز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اماراتی سفیر کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں پاکستان میں ان کی حالیہ تقرری پر مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی سفارتی خدمات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور عوامی سطح پر گہرے روابط پر مبنی ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے چلے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور عوام اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ محمد بن زاید النہیان کا دورۂ پاکستان نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں معاون ہوگا بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تجارت کے موجودہ حجم پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی گنجائش موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ریلوے، ہوا بازی، انفراسٹرکچر اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت اور اسٹریٹجک جغرافیائی محلِ وقوع کی بدولت سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے، جن سے متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومتِ پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یو اے ای کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول، سہولیات اور مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اقتصادی ترقی اور استحکام کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے مشکل اوقات میں پاکستان کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یو اے ای نے نہ صرف اقتصادی تعاون بلکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے بھی پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات، معاشی مشکلات اور دیگر چیلنجز کے دوران متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد پاکستانی عوام کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ لاکھوں پاکستانی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان پاکستانیوں کی خدمات کو بھی سراہا جو یو اے ای کی ترقی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد سالم البواب الزابی نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
اماراتی سفیر نے پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اپنے سفارتی فرائض کے دوران دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے اور موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔
ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر مل کر علاقائی استحکام، اقتصادی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔


One Response