نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ رواداری اور امن کی عملی مثال ہے:وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی یومِ برداشت پرخطاب، پاکستان کی بنیاد ہی رواداری، یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی پر رکھی گئی تھی
اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں برداشت، تحمل اور رواداری کی اقدار کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے کامل نمونہ ہے جس میں امن، بھائی چارے اور محبت کا پیغام ملتا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں عالمی یومِ برداشت و رواداری کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد ہی رواداری، یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی پر رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کی تحریک میں ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا، جن میں وکلا، ڈاکٹرز، انجینئرز، علمائے کرام، خواتین اور اقلیتیں بھی شامل تھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی یومِ برداشت پرخطاب میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تاریخی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 11 اگست 1947 کو قائد اعظم نے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان میں ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور یہ قوم بردباری و رواداری کی بنیاد پر آگے بڑھے گی۔
انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو معاشرتی ہم آہنگی کی اصل روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ طائف کے مقام پر نبی پاک ﷺ نے ظلم اور جبر کے باوجود جس صبر، برداشت اور اخلاق کا مظاہرہ کیا وہ پوری انسانیت کے لیے رہبر و رہنما ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صلح حدیبیہ تاریخ کی وہ عظیم مثال ہے جس نے دنیا کو امن کے ساتھ طاقت سے زیادہ مضبوط اور پائیدار حل دکھایا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی یومِ برداشت پرخطاب میں کہا کہ آج ایک بار پھر پاکستان کو اسی رواداری، بھائی چارے اور یکجہتی کی ضرورت ہے جس کی تعلیمات اسلام اور دیگر مذاہب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰؑ اور دیگر انبیائے کرام کے فرامین بھی انسانیت، محبت اور امن کا درس دیتے ہیں، اور اگر ہم اجتماعی طور پر ان اقدار کو فروغ دیں تو پاکستان ایک مضبوط، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ بن سکتا ہے۔
شہباز شریف کا عالمی یومِ برداشت پرخطاب میں کہا کہ پاکستان اس وقت مختلف چیلنجوں سے گزر رہا ہے، لیکن اگر قوم برداشت، تحمل، بھائی چارے اور باہمی احترام کو اپنائے تو وطن عزیز ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم نے آخر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک ایسا ملک بنے گا جہاں تمام مکاتبِ فکر اور مذاہب کے لوگ امن اور چین کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم رواداری، صبر، اخلاق اور یکجہتی کو اپنا شعار بنائیں گے اور عملی میدان میں اس کا ثبوت دیں گے۔
"قیامِ پاکستان کی بنیاد کا فلسفہ رواداری، برداشت اور تحمل تھا۔ قائداعظم کی عظیم قیادت میں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا، جس کا مقصد ایک آزاد ریاست کا قیام تھا۔ برداشت اور تحمل کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہمارے لیے بہت بڑا سرمایۂ حیات ہے۔… pic.twitter.com/hnhpjJimIB
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) November 19, 2025










