پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، معاشی اصلاحات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج معاشی اصلاحات کا ثمر، KSE-100 انڈیکس نئی ریکارڈ سطح پر

پاکستان میں حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی معاشی اصلاحات کے مثبت اثرات اب بتدریج اور واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ملکی معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی معاشی ساکھ کو بہتر بنایا ہے۔ ان اصلاحات کا سب سے نمایاں اور قابلِ ذکر مظہر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی غیر معمولی کارکردگی ہے، جو اس وقت دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی اسٹاک مارکیٹس میں شمار ہو رہی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے حالیہ برسوں میں شاندار پیش رفت کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ دسمبر 2025 کے وسط تک KSE-100 انڈیکس نے تاریخ کی بلند ترین سطح کو عبور کرتے ہوئے 1 لاکھ 71 ہزار 500 پوائنٹس کا سنگِ میل عبور کر لیا، جو ملکی سرمایہ منڈی کی مضبوطی اور معیشت میں بہتری کا واضح ثبوت ہے۔ یہ ریکارڈ سطح اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت اب غیر یقینی صورتحال سے نکل کر ترقی اور استحکام کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے اب تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے امریکی ڈالر میں 47 فیصد جبکہ پاکستانی روپے میں 48 فیصد شاندار ریٹرن دیا ہے، جو عالمی معیار کے مطابق ایک غیر معمولی کارکردگی سمجھی جاتی ہے۔ مزید برآں، گزشتہ دو برسوں کے دوران مجموعی طور پر 300 فیصد تک منافع ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے پاکستان کو دنیا کی صفِ اول کی اسٹاک مارکیٹس میں شامل کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اور غیر ملکی سرمایہ کار اب پاکستان کو ایک پرکشش سرمایہ کاری کی منڈی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اس شاندار کامیابی کے پس منظر میں کئی بنیادی عوامل کارفرما ہیں، جن میں سب سے اہم مائیکرو اکنامک استحکام، مسلسل معاشی اصلاحات اور پالیسیوں میں تسلسل شامل ہیں۔ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، سبسڈی نظام کو بہتر بنانے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات جیسے اقدامات کیے، جن کے مثبت اثرات براہِ راست معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر مرتب ہوئے۔

اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی محتاط اور ذمہ دارانہ مانیٹری پالیسی، مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔ روپے کی قدر میں استحکام اور درآمدات و برآمدات کے توازن نے معاشی منظرنامے کو مزید مضبوط کیا، جس کا فائدہ براہِ راست اسٹاک مارکیٹ کو پہنچا۔

ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی واپسی بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تیزی کی ایک اہم وجہ ہے۔ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار اب دوبارہ پاکستانی مارکیٹ میں دلچسپی لے رہے ہیں، جس کی وجہ بہتر ریٹرنز، مستحکم معاشی پالیسیاں اور مستقبل میں ترقی کے امکانات ہیں۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئی۔

ایک اور خوش آئند پہلو یہ ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایکویٹی سرمایہ کاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت ایکویٹی سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ جون 2024 سے نومبر 2025 کے دوران 1 لاکھ 20 ہزار نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے، جو مجموعی سرمایہ کار بنیاد میں 37 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عام عوام بھی اب اسٹاک مارکیٹ کو سرمایہ کاری کے ایک محفوظ اور منافع بخش ذریعہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ڈیجیٹل ٹریڈنگ پلیٹ فارمز، سرمایہ کاری سے متعلق آگاہی مہمات اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے شفافیت کو یقینی بنانے کے اقدامات نے بھی نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی اصلاحات، بہتر نگرانی اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات نے مارکیٹ کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔

کارپوریٹ شعبے کی بہتر کارکردگی، منافع میں اضافہ، اور کمپنیوں کی مالی حالت میں بہتری نے بھی اسٹاک مارکیٹ کی تیزی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بینکنگ، توانائی، سیمنٹ، ٹیکنالوجی اور فرٹیلائزر جیسے شعبے خاص طور پر نمایاں رہے، جنہوں نے سرمایہ کاروں کو پرکشش منافع فراہم کیا۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق اگر حکومت اصلاحاتی عمل کو اسی تسلسل کے ساتھ جاری رکھتی ہے، پالیسیوں میں استحکام برقرار رہتا ہے اور کاروبار دوست ماحول کو مزید بہتر بنایا جاتا ہے تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج مستقبل میں بھی ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع میں اضافہ، صنعتی ترقی اور مجموعی معاشی خوشحالی کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی حالیہ غیر معمولی کارکردگی نہ صرف حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے بلکہ یہ پاکستان کی معیشت کے روشن مستقبل کی بھی عکاس ہے۔ درست سمت میں کیے گئے فیصلے، پائیدار اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی مالیاتی نقشے پر نمایاں مقام دلا دیا ہے، جو آنے والے برسوں میں مزید ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]