سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟ جانیں حقائق اور بچاؤ کے طریقے
جب سائے میں سورج کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے، ہوا میں ٹھنڈک بڑھ جاتی ہے، اور دل کی دھڑکن کچھ سست محسوس ہونے لگتی ہے — تب موسم سرما کا آغاز معلوم ہوتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس ٹھنڈی فضا کے ساتھ ایک خطرہ بھی منسلک ہے؟ جی ہاں، سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ حقیقت ہے اور اس پر نظر رکھنا ہمارے لیے بے حد ضروری ہے۔
ماہرین طبیات نے کئی تحقیقی رپورٹس اور فیلڈ اسٹڈیز کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سرد موسم جسم پر ویسے اثرات مرتب کرتا ہے جو دل کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
خون کی شریانیں سکڑتی ہیں، دل پر بوجھ بڑھتا ہے
ڈاکٹر Patricia Wasilko جو کہ مشہور کارڈیالوجی پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ سردی کے باعث سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ اس لیے بڑھ جاتا ہے کیونکہ:
خون کی نالیوں اور شریانوں میں سکڑاؤ آ جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔
دل کو جسم کے پورے حصے میں خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
یہ وہ بنیادی وجہ ہے جو سردیوں میں دل کی بیماریوں اور ہارٹ اٹیک کی شرح بڑھا دیتی ہے۔
روزمرہ معمولات میں تبدیلیاں اور دل پر اثرات
موسم سرما کے ساتھ ہماری زندگی کا معمول بھی بدل جاتا ہے — مگر ہر تبدیلی اتنی بے ضرر نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر:
دن میں روشنی کم، شام جلدی — نیند کا چکر متاثر ہوتا ہے۔
لوگ گرم کھانے، میٹھے میٹھے پکوانوں اور چکنائی والے کھانوں کی طرف جاتے ہیں۔
ادویات یا معمول کی ورزش ترک ہو جاتی ہے۔
سردی اور بخار سے بچنے کے لیے گرم کمبل، ہیٹر وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔
یہ سب چیزیں مل کر سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ مزید بڑھا دیتی ہیں۔
تحقیقاتی نتائج تعطیلات اور دل کی بیماریاں
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق بتاتی ہے کہ عید، کرسمس، نئے سال جیسے مواقع پر ہارٹ اٹیک اور فالج کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ مثلاً امریکا میں 25 دسمبر کو دل سے جڑے مسائل کے باعث سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں، پھر 26 دسمبر اور یکم جنوری بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس بات کا ظہری ثبوت ہیں کہ سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ صرف موسم کی ٹھنڈک نہیں، بلکہ زندگی کے بدلتے معمولات کا بھی نتیجہ ہے۔
پیر کی صبح اور ہفتے کی شروعات اضافی خطرہ
کچھ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پیر کی صبح، یعنی نئے ہفتے کے آغاز پر ہارٹ اٹیک اور فالج کی شرح دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔
اس کے پیچھے تناؤ، کام کا دباؤ، نیند کی کمی، اور ہفتے کے آغاز کی جلدبازی — یہ سب عوامل شامل ہیں۔
یعنی سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ افزائش پذیر ہو جاتا ہے جب ہم ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکاوٹ کے ساتھ سردی سے بھی دوچار ہوں۔
کیسے بچیں؟ احتیاطی تدابیر
اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس سرد موسم میں آپ اور آپ کا خاندان صحتمند رہے تو چند آسان مگر مؤثر احتیاطیں اختیار کریں:
موسم کے مطابق گرم کپڑے پہنیں، خاص طور پر رات اور صبح کے وقت۔
گھر یا دفتر میں اگر ٹھنڈ ہو تو جسم کو گرم رکھیں، هیٹر یا کمبل مناسب استعمال کریں۔
ہاتھ دھوتے رہیں — موسم سرما میں سانس کی بیماریاں بھی ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتی ہیں۔
متوازن غذا لیں، میٹھے اور چکنائی والے کھانوں کے ساتھ ساتھ سبزیاں اور پھل بھی شامل کریں۔
باقاعدگی سے واک یا ہلکی ورزش کریں، چاہے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔
اگر کسی عجیب علامت کا احساس ہو — جیسے سینے میں جلن، سانس پھولنا، سرد پسینہ، سینے یا کندھے میں درد — فوراً طبی امداد لیں۔
یہ چھوٹی چھوٹی تدابیر سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کو بہت حد تک کم کر سکتی ہیں۔
ہارٹ اٹیک کی ابتدائی علامات نظر انداز مت کریں
ہارٹ اٹیک کی علامات کو پہچاننا جان لینا نصف علاج ہے۔ ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ اگر آپ کو درج ذیل علامات محسوس ہوں:
سینے میں جلن یا دباؤ
گردن، کندھے، جبڑے یا کمر میں درد
سانس لینے میں دشواری
سرد پسینہ آنا
متلی یا قے
اچانک کمزوری یا شدید تھکاوٹ
تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں — کیونکہ سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ صرف ممکن نہیں بلکہ حقیقی ہے۔
نیند اور جسمانی وزن میں کمی کا حیرت انگیز تعلق
اختتامیہ سردی کی خوبصورتی، مگر ہوشیاری کے ساتھ
سرد موسم اپنی خاموشی، ٹھنڈی ہواؤں اور سفید صبحوں کے ساتھ بے شمار خوشیاں لاتا ہے — مگر ساتھ ہی کچھ چوکنا رہنے والی حقیقتیں بھی لاتا ہے۔
اگر آپ سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ جانتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سردی سے خوف کریں — بلکہ مطلب ہے کہ سمجھداری سے احتیاط کریں۔