سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، پاکستان میں تاریخ کی بلند ترین سطح متوقع

سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث سونا آسمان پر، پاکستان میں فی تولہ قیمت 5 لاکھ 76 ہزار سے تجاوز کا خدشہ

جغرافیائی کشیدگی، عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور مالی منڈیوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث سرمایہ کاروں کا رجحان تیزی سے محفوظ اثاثوں، خصوصاً سونے اور چاندی کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں جاری سیاسی تنازعات، بڑی معیشتوں میں سست روی کے خدشات، شرح سود میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی مارکیٹس میں عدم استحکام نے سرمایہ کاروں کو خطرات سے بچاؤ کے لیے قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری پر مجبور کر دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں نے تمام سابقہ ریکارڈز توڑ دیے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں ایک ہی دن میں 264 ڈالر فی اونس کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد سونے کی قیمت 5293 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر 5557 ڈالر فی اونس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ حالیہ برسوں میں عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ہونے والی سب سے بڑی یومیہ بڑھوتریوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور دیگر حساس خطوں میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور یورپی معیشتوں میں ممکنہ کساد بازاری، بڑھتا ہوا قرض اور مالیاتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال نے سونے کو ایک بار پھر محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار، ہیج فنڈز اور مرکزی بینک بڑی مقدار میں سونا خرید رہے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے اثرات پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹس میں بھی شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی دن میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 25 ہزار روپے سے زائد اضافے کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے، جو ایک تاریخی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

مقامی مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق اگر عالمی رجحان برقرار رہا تو پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ 76 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت پہلے ہی 5 لاکھ 51 ہزار 662 روپے کی بلند ترین سطح پر قائم ہو چکی تھی، جس نے عام صارفین اور سرمایہ کاروں دونوں کو حیران کر دیا۔

صرافہ بازار سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی، درآمدی اخراجات میں اضافہ اور معاشی دباؤ نے سونے کی قیمتوں کو مزید اوپر دھکیل دیا ہے۔ پاکستان میں سونا نہ صرف زیورات کے طور پر استعمال ہوتا ہے بلکہ اسے ایک محفوظ سرمایہ کاری بھی سمجھا جاتا ہے، اسی لیے معاشی غیر یقینی صورتحال میں عوام کی بڑی تعداد سونے کی خریداری کی جانب راغب ہو جاتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں اب تک سونے کی قیمت میں 27 فیصد کا بڑا اضافہ ہو چکا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صرف چند ہفتوں میں سونا کس تیزی سے مہنگا ہوا ہے۔ مزید برآں، رواں ہفتے کے دوران ہی سونے کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو عالمی اور مقامی دونوں منڈیوں میں شدید بے چینی کی علامت ہے۔

اگر گزشتہ سال کا جائزہ لیا جائے تو سال 2025 میں سونے کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 64 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی مالیاتی نظام میں عدم توازن، افراطِ زر میں اضافے اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں کے باعث سامنے آیا۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں کرنسی کی قدر میں کمی نے سونے کو ایک محفوظ متبادل بنا دیا۔

دوسری جانب، صرف سونا ہی نہیں بلکہ چاندی کی قیمتیں بھی عالمی منڈی میں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں چاندی 120 ڈالر فی اونس کی جانب گامزن ہے، جو صنعتی اور سرمایہ کاری دونوں حوالوں سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ چاندی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیچھے بھی صنعتی طلب میں اضافہ، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں اور الیکٹرانکس کی صنعت میں استعمال کو اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی اور جغرافیائی کشیدگی مزید بڑھی تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں سونا 5800 ڈالر فی اونس کی سطح کو بھی چھو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں سونے کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحیں قائم کر سکتی ہیں۔

تاہم، بڑھتی ہوئی قیمتوں نے زیورات کی صنعت اور عام صارفین کے لیے مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں۔ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے سونا خریدنے والے افراد شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ سناروں کا کہنا ہے کہ بلند قیمتوں کے باعث خرید و فروخت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ عالمی اور مقامی معاشی حالات میں سونا ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔ غیر یقینی صورتحال، مالیاتی خطرات اور کرنسی کی بے قدری نے سونے کو ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کے طور پر مضبوط کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا دار و مدار عالمی سیاسی حالات، مالیاتی پالیسیوں اور مارکیٹ کے اعتماد پر ہوگا، تاہم موجودہ رجحانات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ قیمتی دھاتوں کا یہ سفر ابھی جاری رہ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]