سونے کی مارکیٹ: کمپٹیشن کمیشن کی اسیسمنٹ اسٹڈی نے غیر شفاف نظام کا پول کھول دیا

سونے کی مارکیٹ کی غیر شفافیت پر کمپٹیشن کمیشن کی رپورٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کمپٹیشن کمیشن کی اسیسمنٹ اسٹڈی—سونے کی مارکیٹ غیر شفاف، غیر دستاویزی اور بے ضابطگیوں کا شکار

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی سونے کی مارکیٹ پر جامع ”اسیسمنٹ اسٹڈی“ — مسائل، حقائق اور اہم سفارشات

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) نے ملک کی سونے کی مارکیٹ پر اپنی جامع “اسیسمنٹ اسٹڈی” جاری کرتے ہوئے پہلی بار سنجیدگی سے ان ڈھانچہ جاتی مسائل کی نشاندہی کی ہے جو طویل عرصے سے اس صنعت کی شفافیت، ترقی اور بین الاقوامی ہم آہنگی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ اسٹڈی اس بڑے شعبے کے بارے میں وہ حقائق سامنے لاتی ہے جن کے بارے میں معیشت دان، پالیسی ساز اور ریگولیٹر طویل عرصے سے بات کرتے آئے ہیں، مگر کوئی منظم تحقیق دستیاب نہیں تھی۔ رپورٹ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اگر سونے کی مارکیٹ میں بروقت اصلاحات نہ لائی گئیں تو یہ شعبہ مستقبل کی معاشی سرگرمیوں، خصوصاً ریکو ڈیک جیسے بڑے منصوبوں سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

پاکستان میں سونے کی مارکیٹ — غیر دستاویزی، غیر منظم اور غیر شفاف

اسٹڈی کے مطابق پاکستان کی سونے کی مارکیٹ بدستور غیر دستاویزی، غیر شفاف اور غیر منظم ہے۔ اندازوں کے مطابق ملک میں سالانہ 60 سے 90 ٹن سونے کی کھپت ہوتی ہے، لیکن اس کا 90 فیصد سے زائد حصہ غیر رسمی ذرائع سے خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ یہ غیر رسمی ڈھانچہ حکومتی ریونیو کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور مارکیٹ میں مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں بلاجواز اتار چڑھاؤ کا سبب بنتا ہے۔

ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں سونے کی قیمت طے کرنے کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ مختلف شہروں کی مقامی تاجر انجمنیں اپنی سہولت کے مطابق قیمتیں مقرر کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں نرخ مختلف رہتے ہیں۔ اس خلا کا فائدہ وہ بااثر گروہ اٹھاتے ہیں جو قیمتوں اور سپلائی پر اثر انداز ہو کر مارکیٹ کے توازن کو توڑتے ہیں۔

درآمدات، سپلائی چین اور ریکو ڈیک — مستقبل کی بڑی تبدیلی

کمپٹیشن کمیشن کی اسٹڈی میں بتایا گیا کہ مالی سال 2024 کے دوران پاکستان نے 17 ملین ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا۔ مقامی سطح پر ریفائننگ، پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بیرونی منڈیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریکو ڈیک گولڈ اینڈ کاپر پراجیکٹ آئندہ تین سے چار دہائیوں میں پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ منصوبہ 37 سال میں تقریباً 74 ارب ڈالر مالیت کا سونا پیدا کرے گا۔ اتنی بڑی مقدار کا سونا ملکی سپلائی چین، صنعتی پیداوار، تجارت اور برآمدات کے نظام میں انقلاب لا سکتا ہے، بشرطیکہ مارکیٹ پہلے سے ہی شفاف، مستحکم اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک میں موجود ہو۔

کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریگولیشن مضبوط نہ کیے گئے تو ریکو ڈیک سے حاصل ہونے والا سونا بھی غیر رسمی چینلز میں ضائع ہو جائے گا، اور ملک اس تاریخی موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

کیش لین دین، پیچیدہ ٹیکس نظام اور اسمگلنگ کے چیلنجز

پاکستان میں سونے کی زیادہ تر خرید و فروخت نقد لین دین کے ذریعے ہوتی ہے، جو منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور غیر قانونی سرمایہ کی گردش کو فروغ دیتی ہے۔ اہم مسائل درج ذیل ہیں:

  • بینکنگ چینلز استعمال نہ ہونے سے شفافیت کا فقدان
  • پیچیدہ ٹیکس ڈھانچہ سمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کو بڑھاتا ہے
  • ہنڈی و حوالہ کے ذریعے ادائیگی کے رجحانات مضبوط ہوتے ہیں
  • ٹیکس نیٹ انتہائی محدود رہ جاتا ہے

یہ تمام عوامل نہ صرف حکومتی آمدنی کم کرتے ہیں بلکہ عالمی اصولوں کے مطابق مارکیٹ کو چلانا بھی دشوار بنا دیتے ہیں۔

ہال مارکنگ اور خالصیت — صارفین سب سے زیادہ متاثر

کمیشن نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں ہال مارکنگ اور کوالٹی ایشورنس کا نظام تقریباً ناکام ہے۔ ناکافی لیبارٹریز، معیاری ٹیسٹنگ کا فقدان اور سرٹیفیکیشن نہ ہونے کے باعث:

  • ملاوٹ شدہ سونے کی فروخت بڑھ رہی ہے
  • خالصیت (Purity) کا تعین مشکل ہے
  • صارفین دھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں
  • برآمدات عالمی معیار پر پورا نہیں اترتیں

عالمی مارکیٹ میں قبولیت کے لیے سونے کی خالصیت کا درست اور شفاف تعین بنیادی شرط ہے، جس کے بغیر پاکستان علاقائی منڈیوں میں بھی پیچھے رہ جاتا ہے۔

ڈیٹا کا بحران — پالیسی سازی کے راستے میں بڑی رکاوٹ

اسٹڈی میں سب سے تشویش ناک پہلو یہ سامنے آیا کہ پاکستان میں سونے کی:

  • درآمد
  • فروخت
  • ہال مارکنگ
  • خالصیت
  • اسٹاک
  • مارکیٹ حجم

کے بارے میں کوئی جامع اور قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی ادارے مناسب پالیسی سازی سے قاصر رہتے ہیں۔ واضح ڈیٹا کے بغیر ٹیکس اصلاحات، مارکیٹ ریگولیشن اور تحقیقاتی نظام سب ادھورے رہ جاتے ہیں۔

کمپٹیشن کمیشن کی تجویز کردہ اصلاحات — سونے کی مارکیٹ کا نیا نقشہ

ملک میں سونے کی مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے CCP نے چند اہم اور جامع اصلاحات تجویز کی ہیں، جن پر عمل درآمد کی صورت میں یہ شعبہ نہ صرف شفاف ہو سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط ستون بھی بن سکتا ہے۔

1) پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی کا قیام

یہ اتھارٹی:

  • سونے کی مارکیٹ کو ریگولیٹ کرے گی
  • لائسنسنگ کا شفاف نظام متعارف کروائے گی
  • درآمدات و برآمدات کی نگرانی کرے گی
  • ہال مارکنگ اور خالصیت کے سرٹیفکیٹ جاری کرے گی
  • غیر رسمی تجارت کو کم کرے گی

یہ ایک مرکزی اور مضبوط ادارہ ہو گا جو پورے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرے گا۔

2) لائسنسنگ اور AML/KYC قوانین کا نفاذ

کمیشن کے مطابق سونے کے کاروبار کو باقاعدہ بنانے کے لیے:

  • لائسنسنگ لازمی قرار دی جائے
  • منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے قوانین مؤثر بنائے جائیں
  • KYC نظام کو سخت کیا جائے
  • نقد لین دین کو محدود کر کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے

3) سونے کی خرید و فروخت کو FBR کے Track & Trace نظام سے منسلک کرنا

یہ اصلاح:

  • غیر قانونی تجارت کے خاتمے
  • ٹیکس نیٹ میں اضافے
  • مارکیٹ کی حقیقی تصویر سامنے لانے
  • اور قیمتوں میں استحکام

کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

4) ترکی کے طرز پر گولڈ بینک کا قیام

ترکی کے ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوئے سونے کو بینکاری نظام کا حصہ بنایا جائے۔ گولڈ بینک:

  • ڈیجیٹل گولڈ اکاؤنٹس متعارف کروائے گا
  • شہریوں کے پاس موجود زیورات کو مالی قدر میں تبدیل کرے گا
  • سونے کو باقاعدہ بینکنگ نظام میں شامل کر کے معیشت کو مضبوط بنیاد دے گا

5) ریکو ڈیک کے آغاز سے پہلے ریگولیشنز کا نفاذ

کمیشن نے زور دیا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے بڑے منصوبے سے پہلے مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنا ناگزیر ہے، تاکہ آنے والا سونا غیر قانونی چینلز میں نہ جائے اور ملک اس سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر سکے۔

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی حالیہ اسیسمنٹ اسٹڈی ملک کی سونے کی مارکیٹ کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ اس نے پہلی بار اس شعبے کے پیچیدہ مسائل، اس کی غیر شفافیت، غیر رسمی معیشت کے حجم، ٹیکس چوری، ہال مارکنگ کی کمی اور ڈیٹا کی غیر موجودگی جیسے بنیادی عناصر کو اجاگر کیا ہے۔ اگر حکومت ان سفارشات پر سنجیدگی سے عمل کرے تو:

  • سرمایہ کاری بڑھے گی
  • ٹیکس ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوگا
  • سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت ختم ہو گی
  • صارفین کا اعتماد بحال ہوگا
  • اور پاکستان عالمی گولڈ مارکیٹ میں ایک مستحکم اور معتبر مقام حاصل کر سکے گا

یہ اصلاحات نہ صرف موجودہ مسائل کو حل کریں گی بلکہ ریکو ڈیک جیسے بڑے منصوبوں سے حاصل ہونے والے طویل مدتی فوائد کے لیے بھی مضبوط بنیاد فراہم کریں گی۔

سونے کی قیمت : پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں نیا ریکارڈ
سونے کی قیمت آج: فی تولہ 4 لاکھ 42 ہزار 200 روپے | عالمی سطح پر 3,500 ڈالر فی اونس
سونے کی قیمتوں میں اضافہ عالمی اور مقامی مارکیٹوں کی تازہ اپڈیٹ
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]