ٹرمپ ایران کشیدگی میں خطرناک موڑ، ایرانی سپریم لیڈر کے خلاف کارروائی کا دعویٰ

ٹرمپ کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر کے خلاف کارروائی کا دعویٰ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسرائیل کے لیے سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو کا دعویٰ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل

اسرائیل کے لیے امریکہ کے سابق سفیر ڈان شپیرو نے ایک نہایت سنجیدہ اور حساس دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس بیان نے نہ صرف عالمی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ڈان شپیرو، جو سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کے دورِ صدارت میں اسرائیل میں امریکی سفیر کے فرائض انجام دے چکے ہیں، ایک تجربہ کار سفارتکار اور امریکی خارجہ پالیسی پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایک اسرائیلی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو کے دوران سامنے آیا، جس میں انہوں نے مستقبل کے ممکنہ امریکی اقدامات اور ایران کے ساتھ کشیدگی پر کھل کر گفتگو کی۔

سابق امریکی سفیر کے مطابق، اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں یا امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ ایران کے خلاف انتہائی جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کر سکتے ہیں۔ ڈان شپیرو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی سفارتی روایات کے تناظر میں ایک غیر معمولی اور خطرناک اقدام ہوگا۔

یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حالیہ بیانات میں امریکہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں ہونے والے تشدد، احتجاجی مظاہروں اور بعض قتل کے واقعات کے پیچھے امریکی صدر اور امریکی ادارے ملوث ہیں۔ ایران کی قیادت کا مؤقف ہے کہ امریکہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور عوامی بے چینی کو ہوا دے رہا ہے۔

ڈان شپیرو نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای اس وقت 86 برس کے ہو چکے ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے بھی مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایران ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور اس وقت وہاں قیادت کی تبدیلی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ سابق امریکی سفیر نے یہ رائے بھی دی کہ ایران کو اس وقت ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے جو عالمی برادری کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر سکے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے سربراہ یا سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی بات کرنا نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے پورے خطے میں شدید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ ایک نئی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین یہ بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ماضی میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ایران کے خلاف سخت اقدامات دیکھنے میں آئے، جن میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت ایک نمایاں مثال ہے۔ اس واقعے نے اس وقت خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا اور آج بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ڈان شپیرو کے حالیہ بیان کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

ایران کی جانب سے ابھی تک اس بیان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایرانی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس دعوے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات دراصل نفسیاتی دباؤ بڑھانے اور ایران کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش ہیں۔

دوسری جانب امریکہ میں بھی اس بیان پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقے ڈان شپیرو کے بیان کو ذاتی رائے قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق سفارتکار ہونے کے ناطے ان کے الفاظ کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ امریکی سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی امریکی صدر کے لیے کسی غیر ملکی رہنما کو قتل کرنے کی کوشش کرنا نہایت سنگین معاملہ ہوگا جس کے قانونی، اخلاقی اور سیاسی نتائج ہوں گے۔

اسرائیل، جو ایران کو اپنا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف سمجھتا ہے، اس پوری صورتحال میں ایک اہم فریق ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں اس بیان کو نمایاں کوریج دی جا رہی ہے اور مختلف تجزیے شائع ہو رہے ہیں جن میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر ڈان شپیرو کا یہ دعویٰ ایک حساس، متنازع اور تشویشناک پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بیان نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں بھی نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ امریکی سیاسی قیادت، ایرانی حکومت اور عالمی طاقتیں اس بیان پر کیا ردعمل دیتی ہیں اور آیا یہ محض ایک تجزیاتی رائے ثابت ہوتی ہے یا کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]