حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ طے پا گیا، حماس رہنما اسامہ حمدان نے تفصیلات سے آگاہ کر دیا

حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ 2025 — اسرائیلی فوج کا انخلا اور امدادی ٹرکوں کی آمد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ طے پا گیا: اسرائیلی فوج انخلا کرے گی، یومیہ 600 امدادی ٹرک داخل ہوں گے ، حماس رہنما اسامہ حمدان کی تفصیلات منظرعام پر

دوحہ (رئیس الاخبار) :— حماس کے سینئر رہنما اسامہ حمدان نے اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے غزہ امن معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک جنگ بندی نہیں بلکہ غزہ پر جنگ کے مکمل خاتمے کا معاہدہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کو غزہ شہر، شمالی علاقوں، رفح اور خان یونس سے مکمل انخلا کرنا ہوگا جبکہ پانچ سرحدی گزرگاہوں سے روزانہ 600 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے۔

عالمی سطح پر تاریخی پیش رفت

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب کئی ماہ کی خونریز جنگ، تباہی اور انسانی بحران کے بعد بالآخر قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں ایک جامع امن معاہدہ طے پایا۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

اسامہ حمدان نے قطر کے العربی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

“حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ محض جنگ بندی نہیں بلکہ غزہ پر جنگ کے مکمل خاتمے کا معاہدہ ہے۔ اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کو اس پر عمل درآمد کا پابند بنائے۔”

معاہدے کے اہم نکات

  • غزہ میں جنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
  • اسرائیلی کابینہ کی منظوری کے بعد جنگ بندی نافذ ہوگی۔
  • قیدیوں کا تبادلہ صرف جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے اعلان کے بعد ہوگا۔
  • امریکا کو جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کا اختیار دیا گیا ہے۔
  • اسرائیلی فوج کو غزہ شہر، شمالی علاقے، رفح اور خان یونس سے مکمل انخلا کرنا ہوگا۔
  • پانچ سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے روزانہ 600 ٹرک امدادی سامان غزہ میں داخل ہوں گے۔
  • امدادی سامان کی تقسیم کی نگرانی بین الاقوامی ادارے کریں گے، نہ کہ مقامی "غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن”۔
  • فلسطینی دھڑوں نے غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے 40 ناموں پر مشتمل فہرست پیش کردی ہے۔
  • 250 عمر قید یافتہ قیدیوں سمیت 1700 فلسطینی قیدیوں کی رہائی معاہدے کا حصہ ہے۔
  • غزہ کی فضاؤں میں اسرائیلی ڈرون پروازوں کی بندش کی شق بھی معاہدے میں شامل ہے۔

یہ غزہ پر جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ہے” — اسامہ حمدان

اسامہ حمدان نے کہا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ کی سب سے بنیادی شق غزہ پر جنگ کا اختتام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور اگر ایسا ہوا تو عالمی ضامن ممالک کو مداخلت کرنی ہوگی۔

“ہم نے واضح کر دیا ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ صرف اس وقت ہوگا جب جنگ ختم ہو جائے گی، نہ کہ عارضی جنگ بندی کے دوران۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے بغیر کوئی بھی مرحلہ آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔

غزہ جنگ بندی 2025: اسرائیل کی بربریت کے بعد دوپہر 2 بجے سے امن معاہدہ نافذ

قیدیوں کے تبادلے کی تفصیلات

معاہدے کے مطابق

  • اسرائیل 250 ایسے فلسطینی قیدی رہا کرے گا جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
  • اس کے علاوہ 1700 عام قیدی بھی رہا کیے جائیں گے، جن میں خواتین، بزرگ اور نابالغ شامل ہیں۔
  • حماس نے بتایا کہ “تمام اہم فلسطینی رہنماؤں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں جن کی رہائی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

غزہ کا نیا انتظام

اسامہ حمدان کے مطابق، فلسطینی دھڑوں نے غزہ کی انتظامی بحالی کے لیے 40 غیر سیاسی اور قومی شخصیات پر مشتمل ایک تجویز پیش کی ہے۔
یہ کمیٹی کسی بھی اسرائیلی مداخلت سے آزاد ہوگی۔

“غزہ کا انتظام صرف فلسطینی عوام کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ ہم کسی بھی بیرونی طاقت کو ہمارے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔”

انسانی امداد کا نیا نظام

حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ کے تحت روزانہ پانچ سرحدی گزرگاہوں سے 600 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے۔
امداد میں خوراک، ادویات، ایندھن، اور تعمیراتی سامان شامل ہوگا۔
اس کی نگرانی اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کے نمائندے کریں گے۔

حمدان نے بتایا کہ:

“ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ امداد کی تقسیم مقامی تنظیموں کے بجائے بین الاقوامی ادارے کریں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔”

ڈرون پروازوں کی بندش اور سیزفائر میکانزم

حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ میں غزہ کی فضاؤں میں اسرائیلی ڈرون پروازوں کو روکنے کی شرط بھی شامل ہے تاکہ قیدیوں کے تبادلے کے دوران سیکیورٹی خطرات کم کیے جا سکیں۔
حماس کے مطابق یہ اقدام اعتماد سازی کے لیے ضروری ہے۔

"ہم قابض قوتوں پر اعتماد نہیں کرتے”

اسامہ حمدان نے کہا:

“ہم اسرائیلی قابض افواج پر اعتماد نہیں کرتے۔ لیکن ثالثی ممالک — بالخصوص قطر، مصر اور امریکا — نے ضمانت دی ہے کہ اسرائیل کسی بھی مرحلے پر معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ معاہدہ ہماری مزاحمت کی کامیابی ہے، جس نے قابض طاقت کو جنگ بندی پر مجبور کیا۔”

امریکا کا کردار

قطر اور مصر کے ساتھ ساتھ امریکا نے بھی اس معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔
حماس کے مطابق، ثالثی ممالک نے جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کا اختیار امریکا کو دیا ہے تاکہ یہ معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہو۔

عالمی ردِعمل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ کو “انسانی تاریخ کا اہم لمحہ” قرار دیتے ہوئے تمام فریقین سے اس پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
عرب لیگ نے بھی حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ “غزہ میں امن کا قیام پورے خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔”

غزہ جنگ بندی کے بعد امن معاہدہ، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سیز فائر

پس منظر: تباہی، بھوک اور بے گھری

یاد رہے کہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے تک جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کا 70 فیصد حصہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور دسیوں لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔
ہسپتال تباہ، اسکول ملبے کا ڈھیر، اور شہری انفراسٹرکچر مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔

ہم نے قربانیاں دی ہیں لیکن سر نہیں جھکایا

اسامہ حمدان نے کہا:

“ہم نے اپنے ہزاروں شہداء اور معصوم بچوں کی قربانی دی، مگر ہم نے سر نہیں جھکایا۔ آج کا دن ہمارے عزم اور صبر کی جیت ہے۔”

انہوں نے کہا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ(israel gaza peace agreement) فلسطینی عوام کے لیے امید کی نئی کرن ہے اور دنیا کے لیے ایک پیغام کہ "فلسطین زندہ ہے اور اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہے۔”

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]