بابا گورو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے تقریباً 2 ہزار ایک سو سے زائد بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے

واہگہ بارڈر سے بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بابا گورو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے تقریباً 2 ہزار ایک سو سے زائد بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے

لاہور(رئیس الاخبار) : — پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں برس مئی میں ہونے والی 4 روزہ جھڑپوں اور کشیدہ حالات کے بعد آج بابا گورو نانک کے 556ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے واہگہ بارڈر کے راستے سیکڑوں بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے۔ایک خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کے نئی دہلی میں ہائی کمیشن نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ تقریباً 2 ہزار ایک سو سے زائد سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے گئے ہیں تاکہ وہ 10 روزہ مذہبی تقریبات میں شرکت کر سکیں۔

دونوں ممالک کے درمیان مئی میں جھڑپوں کے باعث کشیدگی اب بھی برقرار ہے، اور واہگہ-اٹاری سرحد عام آمدورفت کے لیے بند ہے۔ تاہم یاتریوں کے قافلے کو خصوصی اجازت نامہ دے کر پاکستان داخلے کی اجازت دی گئی۔ منگل کی صبح بھارتی جانب سے یاتریوں کو قطاروں میں کھڑا دیکھا گیا، جبکہ پاکستانی حکام نے سرحد پار کرکے بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچنے پراستقبال پھولوں اور گلاب کی پتیاں نچھاور کر کے کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق تقریباً 1,700 یاتری اس مذہبی سفر میں شامل ہیں، تاہم بھارتی حکام نے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

آصف علی زرداری کا دوحہ ورلڈ سمٹ برائے سماجی ترقی سے خطاب
صدر پاکستان آصف علی زرداری کا ورلڈ سمٹ برائے سماجی ترقی سے خطاب، مساوات اور انسانی حقوق پر زور۔

یہ یاتری 5 نومبر کو ننکانہ صاحب میں گورو نانک کے جنم استھان پر حاضری دیں گے اور بعدازاں کرتارپور سمیت دیگر مقدس مقامات کا بھی دورہ کریں گے۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق ویزوں کے اجرا کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی اور بین الثقافتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ یاد رہے کہ کرتارپور راہداری 2019 میں کھولی گئی تھی تاکہ بھارتی سکھ برادری ویزے کے بغیر اپنے مقدس مقامات کا دورہ کر سکے، تاہم مئی 2025 کی جھڑپوں کے بعد یہ راہداری بند کر دی گئی تھی۔

مئی 2025 میں ہونے والی چار روزہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب نئی دہلی نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کی پشت پناہی کر رہا ہے، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کیا تھا۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]