گرمی کے خاتمے نے راولپنڈی میں ڈینگی کنٹرول ممکن بنایا
راولپنڈی میں ڈینگی بخار کے خلاف جاری مہم اور موسم کی تبدیلی نے بالآخر مثبت نتائج دینا شروع کر دیے ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق شہر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک ڈینگی کا نیا مریض رپورٹ ہوا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ راولپنڈی میں ڈینگی کنٹرول کی کوششیں کامیاب ثابت ہو رہی ہیں۔
موسم کی تبدیلی اور ڈینگی میں کمی
راولپنڈی میں ٹمپریچر میں اچانک کمی آئی ہے، جس نے ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق، ڈینگی لاروا کی افزائش کے لیے گرم اور مرطوب موسم درکار ہوتا ہے۔ جیسے جیسے درجہ حرارت گرتا ہے، اس کا لائف سائیکل متاثر ہوتا ہے، اور یہی صورتحال گزشتہ ہفتے دیکھنے میں آئی۔ راولپنڈی میں ڈینگی کنٹرول کے حوالے سے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
23 ہزار سے زائد افراد کی اسکریننگ
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق، رواں سیزن میں 23 ہزار 505 افراد کی ڈینگی ٹیسٹنگ کی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے، اب تک کسی بھی مریض کی موت رپورٹ نہیں ہوئی، جس کا سہرا موسمی تبدیلی کے ساتھ ساتھ حکومتی اقدامات کو بھی جاتا ہے۔ راولپنڈی میں ڈینگی کنٹرول کے تحت اسکریننگ کا عمل مسلسل جاری ہے۔
زیر علاج مریضوں کی تعداد اور صورتحال
رپورٹ کے مطابق، اس وقت مختلف ہسپتالوں میں صرف 12 ڈینگی مریض زیر علاج ہیں، جن کی حالت پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے۔ راولپنڈی میں ڈینگی کنٹرول کی مانیٹرنگ کے لیے 1361 ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر ڈینگی سرویلنس پر مامور ہیں۔
ڈینگی لاروا کے خلاف آپریشن
ڈیٹا کے مطابق، اب تک 63 لاکھ 90 ہزار 235 گھروں کی چیکنگ کی جاچکی ہے۔ ان میں سے 2 لاکھ 13 ہزار 729 مقامات پر ڈینگی لاروا ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، شہر بھر میں 29 ہزار 232 مقامات پر بھی لاروا برآمد ہوا جسے فوری ضائع کر دیا گیا۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ راولپنڈی میں ڈینگی کنٹرول محض لفظ نہیں بلکہ عملی حقیقت بن چکا ہے۔
قانونی کارروائیاں
ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر محکمہ صحت نے 4652 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جبکہ 1945 مقامات کو سیل اور 3767 چالان جاری کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت نے راولپنڈی میں ڈینگی کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی اور قانونی کاروائی کو اہمیت دی ہے۔
عوام کی شمولیت بھی ضروری
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں ڈینگی کنٹرول کا یہ ممکن نہیں ہوتا اگر عوام نے اپنا کردار ادا نہ کیا ہوتا۔ گھروں میں موجود پانی کے ذخیرے کو صاف رکھنا، ٹائرز یا گملوں میں پانی نہ جمع ہونے دینا، اور فوری رپورٹنگ جیسے اقدامات نے ڈینگی کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔
ڈینگی روزانہ متاثرین خطرناک حد تک بڑھ گئے، 774 مثبت کیسز
اگرچہ نومبر کا مہینہ ڈینگی سیزن کا اختتام سمجھا جاتا ہے، لیکن حکام نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ڈینگی کبھی بھی سر اٹھا سکتا ہے۔ اسی لیے راولپنڈی میں ڈینگی کنٹرول کی مہم کو جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ اگلے سال اس مرض پر مکمل قابو پایا جا سکے۔
One Response