تاجکستان ڈرون حملے میں چینی شہریوں کی ہلاکت کی پاکستان کی مذمت

چینی شہریوں کی ہلاکت کی پاکستان کی مذمت دفتر خارجہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تاجکستان ڈرون حملے میں چینی شہریوں کی ہلاکت کی پاکستان کی مذمت، مسلح ڈرون کے استعمال نے افغان سرزمین سے جڑے خطرات کو مزید نمایاں کر دیا

اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— پاکستان نے تاجکستان میں چینی کمپنی کے تین ملازمین کی ہلاکت کا سبب بننے والے ڈرون اور آتشیں اسلحے کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ نے اس واقعے کو افغانستان سے درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کی سنگینی اور اس کے پس پردہ عناصر کی ڈھٹائی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔

تاجک حکام کے مطابق جمعرات کے روز ملک کے جنوبی علاقے میں چین کی ایک کمپنی کے کارکنوں پر مسلح ڈرون اور آتشیں اسلحے سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چینی شہریت رکھنے والے تین ملازمین موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ حکام نے واقعے کے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی نہیں کی، تاہم اسے سرحدی سیکیورٹی کے لیے تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ نے جمعہ کی صبح جاری چینی شہریوں کی ہلاکت کی پاکستان کی مذمتی بیان میں چین اور تاجکستان کے شہریوں کی ہلاکت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس بزدلانہ دہشت گرد حملے کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلح ڈرون کے استعمال نے افغان سرزمین سے جڑے خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جس کا پاکستان پہلے ہی متعدد بار سامنا کر چکا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے پر پاکستان مسلسل تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے، اور اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ بیانیے کے مطابق دہشت گرد عناصر کی افغان طالبان حکومت کی سرپرستی میں موجودگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے۔

چینی شہریوں کی ہلاکت کی پاکستان کی مذمت کے ساتھ مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین سے حملہ کرنے والے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ٹھوس، فیصلہ کن اور قابلِ تصدیق کارروائی ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے کا واحد حل ہے۔

یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہے
ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ یو اے ای عام پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ مہینوں میں سخت کشیدہ ہوئے ہیں، خصوصاً سرحد پار دہشت گردی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی کارروائیوں کے باعث تنازع بڑھا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کابل انتظامیہ کو ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف فوری اور موثر اقدامات کرنے چاہئیں، تاہم افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی القاعدہ اور داعش پر پابندیوں کی کمیٹی کے سربراہ نے بھی حال ہی میں اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ ٹی ٹی پی خطے کے لیے ایک ’’سنگین خطرہ‘‘ بنتا جا رہا ہے اور اسے افغانستان کے حکام کی جانب سے خاطر خواہ مدد مل رہی ہے۔

تاجکستان، جو وسطی ایشیا کے غریب ترین مسلم اکثریتی ممالک میں شمار ہوتا ہے، طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے انتہا پسندی کے بڑھتے خطرات پر مسلسل تحفظات ظاہر کر رہا ہے۔ ملک کی حکومت کا کہنا ہے کہ افغان سرحد کے قریب موجود جرائم پیشہ گروہ خطے میں صورتحال کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چینی شہریوں کی ہلاکت کی پاکستان کی مذمت کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ چین، تاجکستان اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]