رحمان اللہ لکنوال کون ہے
29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال گزشتہ روز اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آگیا جب اس نے واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر تعینات نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ یہ واقعہ امریکی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا رہا ہے کیونکہ رحمان اللہ لکنوال ماضی میں سی آئی اے کے لیے افغانستان میں مترجم اور انٹیلی جنس معاون کے طور پر کام کر چکا تھا۔

فائرنگ کا واقعہ کیسے پیش آیا؟
امریکی میڈیا کے مطابق 27 نومبر 2025 کی شام کو رحمان اللہ لکنوال نے اپنی گاڑی سے نیشنل گارڈز کی چیک پوسٹ کے قریب رک کر اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن دو اہلکار زخمی ہوئے۔ حملہ آور فوری طور پر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہا مگر چند گھنٹوں بعد ایف بی آئی نے اسے گرفتار کر لیا۔
ایف بی آئی کے چھاپوں کی تفصیل
گرفتاری کے فوراً بعد ایف بی آئی نے ریاست واشنگٹن اور کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں رحمان اللہ لکنوال کے گھر اور اس کے رشتہ داروں کی رہائش گاہوں پر بیک وقت چھاپے مارے۔ ڈائریکٹر ایف بی آئی کاش پٹیل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ:
- متعدد موبائل فونز، لیپ ٹاپس، آئی پیڈز اور یو ایس بی ڈرائیوز قبضے میں لے لی گئیں
- رحمان اللہ لکنوال کی اہلیہ اور بچوں سے بھی ابتدائی تفتیش کی گئی
- اس کے قریبی رشتہ داروں کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی
کیا رحمان اللہ لکنوال دہشت گرد تھا؟
ابھی تک ایف بی آئی نے اسے دہشت گرد قرار نہیں دیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق رحمان اللہ لکنوال نفسیاتی دباؤ اور پی ٹی ایس ڈی (پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر) کا شکار تھا۔ سابق فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف کام کرنے والے بہت سے افغان مترجم واپس آ کر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سی آئی اے کا سابق ملازم کیوں بھرتی ہوا تھا؟
سی آئی اے کے موجودہ ڈائریکٹر جان ریٹکلیف نے تصدیق کی ہے کہ رحمان اللہ لکنوال 2018 سے 2021 تک افغانستان میں امریکی فورسز کے ساتھ بطور مترجم اور انٹیلی جنس معاون کام کرتا رہا۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اسے SIV (Special Immigrant Visa) کے تحت امریکا لایا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت ہزاروں افغانوں کو امریکا میں پناہ دی گئی تھی۔
امریکی حکومت کا فوری ردعمل
واقعے کے فوراً بعد ٹرمپ انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے:
- تمام نئے افغان امیگریشن کیسز کو غیر معینہ مدت تک روک دیا گیا
- بائیڈن دور میں آئے ہوئے تمام افغان شہریوں کی دوبارہ سکریننگ کا حکم دے دیا گیا
- نیشنل گارڈز کی واشنگٹن میں تعیناتی کو مزید سخت کر دیا گیا
رحمان اللہ لکنوال کے خاندان کا موقف
رحمان اللہ لکنوال کی اہلیہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کا شوہر کئی ماہ سے نیند کی گولیاں کھا رہا تھا اور بار بار چیخ کر اٹھتا تھا۔ اس نے کہا کہ "وہ جنگ کے خواب دیکھتا تھا، کبھی کبھی رات کو اٹھ کر چیختا تھا کہ طالبان آ گئے”۔
کیا یہ تنہا حملہ تھا یا بڑی سازش کا حصہ؟
ایف بی آئی ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کر سکی کہ رحمان اللہ لکنوال نے اکیلے یہ حملہ کیا یا اس کے پیچھے کوئی گروپ ملوث تھا۔ ضبط شدہ الیکٹرانک آلات کی فارنسک جانچ جاری ہے اور اگلے چند دنوں میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، 2 نیشنل گارڈ اہلکار شدید زخمی ، ٹرمپ نے واقعے کو ’دہشت گردی‘ قرار دے دیا
رحمان اللہ لکنوال کا کیس ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہا ہے کہ جن افغانوں کو امریکا نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، کیا ان کے ساتھ انصاف ہوا؟ کیا انہیں مناسب نفسیاتی علاج اور مدد فراہم کی گئی؟ یہ واقعہ امریکی امیگریشن پالیسی اور سابق اتحادیوں کے ساتھ رویے پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔