وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، 2 نیشنل گارڈ اہلکار شدید زخمی ، ٹرمپ نے واقعے کو ’دہشت گردی‘ قرار دے دیا

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ 2 نیشنل گارڈ اہلکار
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، 2 نیشنل گارڈ اہلکار شدید زخمی — ٹرمپ نے واقعے کو ’دہشت گردی‘ قرار دے دیا ، مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ رحمٰن اللہ لاکانوال کے طور پر

واشنگٹن — امریکی دارالحکومت میں وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر بدھ کے روز دن دہاڑے فائرنگ کے خوفناک واقعے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے، جس کے بعد شہر میں سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کو ’’بدی، نفرت اور دہشت گردی کا عمل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ ’’پورے ملک کے خلاف جرم‘‘ تھا۔

ڈی سی پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2:15 بجے اس وقت پیش آیا جب دو نیشنل گارڈ اہلکار — ایک مرد اور ایک خاتون — ہائی ویزیبلٹی پیٹرولنگ پر تھے۔ ایگزیکٹیو اسسٹنٹ چیف جیفری کیرول نے بتایا کہ حملہ آور اچانک ایک موڑ سے نکلا، اس نے بغیر کسی انتباہ کے اسلحہ اٹھایا اور اہلکاروں پر گولیاں برسا دیں۔

دونوں اہلکار متعدد گولیوں کا نشانہ بنے اور انہیں قریبی ٹراما مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حملہ آور بھی مقابلے میں زخمی ہوا اور پولیس نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔

پہچان اور تحقیقات—مشکوک حملہ آور کون ہے؟

وفاقی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہسپتال میں لیے گئے فنگر پرنٹس کی ابتدائی میچنگ سے پتہ چلا کہ زیرِ حراست شخص واشنگٹن اسٹیٹ کا رہائشی ہے جو اگست 2021 میں افغانستان سے امریکا پہنچا تھا۔
نیویارک ٹائمز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ رحمٰن اللہ لاکانوال کے طور پر کی ہے، تاہم متعلقہ اداروں نے باضابطہ طور پر نام جاری نہیں کیا۔

ایف بی آئی نے بتایا ک ہوائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ پر تحقیقات جاری ہیں اور اسے ’’ممکنہ عالمی دہشت گردی‘‘ کے زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی ٹھوس محرک یا دہشت گرد تنظیم سے تعلق ثابت نہیں ہوا۔

ٹرمپ کا سخت ردعمل—’یہ دہشت گردی ہے‘

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فائرنگ کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا:
’’وہ جانور جس نے دونوں نیشنل گارڈز پر فائرنگ کی، شدید زخمی ہے اور بھاری قیمت چکائے گا۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مشتبہ شخص افغانستان سے آیا ہوا غیر ملکی ہے جو ’’ان بدنام زمانہ پروازوں‘‘ کے ذریعے امریکا پہنچا— یہ حوالہ 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد افغان شہریوں کے انخلا کی طرف اشارہ تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان امریکا ٹیرف اور سرمایہ کاری سے کھربوں ڈالر کما رہا ہے، 5 جنگیں بھی رکوا دیں،
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹیرف پالیسیوں سے امریکا کھربوں ڈالر حاصل کر رہا ہے

ٹرمپ نے مزید کہا:
’’ہمیں افغانستان سے آنے والے ہر شخص کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا۔ ایسے افراد جو امریکا کو فائدہ نہیں دیتے یا ہمارے ملک سے محبت نہیں کرتے، ہم انہیں یہاں نہیں چاہتے۔‘‘

ٹرمپ کے مطابق انہوں نے وزیر دفاع کو حکم دیا ہے کہ مزید 500 نیشنل گارڈ اہلکار واشنگٹن میں تعینات کیے جائیں۔

وائٹ ہاؤس کی صورتحال—لاک ڈاؤن اور ہنگامی اقدامات

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو کچھ دیر کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا گیا، اگرچہ اس وقت ٹرمپ دارالحکومت میں موجود نہیں تھے۔
پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر کو بریف کر دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے فوراً بعد وفاقی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی تعداد علاقے میں پہنچ گئی، جبکہ شہریوں کو متاثرہ بلاکس سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔

رپورٹنگ میں غلط فہمی—گورنر نے غلط بیان جاری کیا

کچھ دیر کے لیے صورتحال اس وقت مزید گھمبیر ہو گئی جب ویسٹ ورجینیا کے گورنر پیٹرک موریسی نے بیان دیا کہ دونوں فوجی ہلاک ہو گئے ہیں، تاہم بعد میں انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا۔
ان کے دفتر نے وضاحت کی کہ یہ ’’ابتدائی اور متضاد رپورٹس‘‘ کی بنیاد پر غلط فہمی تھی۔

امریکی مسلم کمیونٹی میں تشویش

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے بعد امریکہ کی مسلم کمیونٹی اور سول رائٹس گروپس نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں جب یہ نشاندہی ہوئی کہ مشتبہ شخص افغان ہے، تو مختلف تنظیموں نے حکام سے اپیل کی کہ شناخت اور محرک کی حتمی تصدیق تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے تاکہ نسلی یا مذہبی تناؤ میں اضافہ نہ ہو۔

ایک مسلم تجزیہ کار نے کہا:
’’اگر یہ رپورٹ درست ثابت ہوئی تو امریکا بھر میں مسلم کمیونٹیز کے خلاف شدید ردعمل کا خدشہ ہے۔‘‘

ڈھاکہ میں پاکستان ایجوکیشن ایکسپو کا ایک منظر جہاں طلباء کی بڑی تعداد بوتھ کا دورہ
پاکستان ہائی کمیشن نے ایچ ای سی کے تعاون سے ڈھاکہ میں پاکستان ایجوکیشن ایکسپو کی میزبانی کی

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی زور دیا کہ ابھی کسی نتیجے پر نہ پہنچا جائے، کیونکہ جیسے جیسے شواہد سامنے آئیں گے، تحقیقات کی نوعیت بدل سکتی ہے۔

نیشنل گارڈ کی پہلے سے تعیناتی

قابلِ ذکر ہے کہ اگست سے ریپبلکن ریاستوں کے نیشنل گارڈ اہلکار واشنگٹن میں پہلے ہی تعینات ہیں۔ یہ تعیناتی اس وقت ہوئی جب ٹرمپ نے اس مشن کو وسعت دی تاکہ اسٹریٹ کرائم کنٹرول کیا جا سکے اور امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

صورتحال کا مجموعی جائزہ

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کا یہ واقعہ امریکا کے اہم ترین علاقے—وائٹ ہاؤس کے چند قدم کے فاصلے پر—پیش آیا، جس نے نہ صرف سیکیورٹی خدشات بڑھائے بلکہ سیاسی ماحول کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ٹرمپ کا اسے ’’دہشت گردی‘‘ قرار دینا اس معاملے کو مزید حساس بنا رہا ہے جبکہ ایف بی آئی کی جانب سے عالمی دہشت گردی کے زاویے سے تفتیش نے معاملے کو قومی سلامتی کے دائرے میں دھکیل دیا ہے۔

ابھی تک مشتبہ شخص کے مقاصد واضح نہیں، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مزید شواہد سامنے آئیں گے، واقعے کی نوعیت اور محرکات کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]