وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ عدالت کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ 3 دسمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔
یہ کیس پہلے سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت تھا، جہاں عدالتِ عظمیٰ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ تاہم 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ازخود نوٹس سے متعلق تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہونے کے باعث اب مذکورہ عدالت ہی اس کیس کی سماعت کرے گی۔
واقعے کا پس منظر
صحافی ارشد شریف کو 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے علاقے مگاڈی ہائی وے پر کینیا پولیس نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولیس نے واقعے کو ابتدائی طور پر غلط شناخت کا معاملہ قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں سامنے آنے والی تحقیقات میں کینیا پولیس کے مؤقف میں واضح تضادات پائے گئے۔
ارشد شریف کے اہلِ خانہ اور صحافتی تنظیموں نے واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور بین الاقوامی معیار کی تحقیقات کا مسلسل مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم بھی کینیا جا چکی ہے، جس کی رپورٹ میں اہم شواہد اور تضادات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
آئندہ پیش رفت
اب وفاقی آئینی عدالت میں 3 دسمبر کو ہونے والی سماعت کیس کی آئندہ قانونی پیش رفت کا تعین کرے گی، جس میں عدالت تحقیقات، شواہد اور متعلقہ سرکاری اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لے گی۔
ارشد شریف قتل کیس پاکستان کی صحافتی برادری، انسانی حقوق تنظیموں اور عوام کی توجہ کا مرکز رہا ہے، اور اس کی شفاف تحقیقات کو آزادی صحافت کے تناظر میں بھی ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔

