آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی: بچوں کی حفاظت کا تاریخی قانون
آسٹریلیا نے 28 نومبر 2025 کو دنیا کا سب سے سخت سوشل میڈیا قانون منظور کر کے تاریخ رقم کر دی۔ اب 10 دسمبر 2025 سے 16 سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب، سنپ چیٹ، ایکس (ٹوئٹر)، ریڈیٹ اور دیگر تمام سوشل پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ نہیں بنا سکے گا، نہ ہی استعمال کر سکے گا۔
یہ آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی دنیا کا پہلا قانون ہے جو ذمہ داری والدین سے ہٹا کر براہِ راست ٹیک کمپنیوں پر عائد کرتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کمپنیوں پر 50 ملین آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 9 ارب پاکستانی روپے) تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا: "سوشل میڈیا ہمارے بچوں کے لیے زہر بن چکا ہے۔ اب کمپنیاں خود ذمہ دار ہوں گی کہ ہمارے بچوں کو نقصان نہ پہنچے۔”
آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی کی اہم شقیں
- عمر کی حد: 16 سال سے کم (14 یا 15 نہیں، براہِ راست 16)
- پلیٹ فارمز: میٹا (فیس بک، انسٹاگرام)، ٹک ٹاک، یوٹیوب، سنپ چیٹ، ایکس، ریڈیٹ، بی ریئل، ڈسکارڈ وغیرہ
- استثنیٰ: واٹس ایپ، میسنجر (پرائیویٹ میسجنگ)، تعلیمی ایپس، گیمنگ پلیٹ فارمز (جب تک سوشل فیچر نہ ہو)
- نافذ العمل: 10 دسمبر 2025 سے
- جرمانہ: 49.5 ملین AUD فی خلاف ورزی
- عمر کی تصدیق: کمپنیاں خود فیصلہ کریں گی کہ کون سا طریقہ استعمال کرنا ہے (بائیو میٹرک، ID، AI وغیرہ)
- والدین کی اجازت: ضروری نہیں، قانون والدین کی رضامندی کو بھی تسلیم نہیں کرے گا
آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی کیوں؟ سرکاری دلائل
حکومت نے 2024 میں eSafety Commissioner کی رپورٹ پیش کی، جس میں کہا گیا:
- 75 فیصد آسٹریلوی بچے 8 سے 16 سال کی عمر میں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں
- 50 فیصد سے زیادہ بچوں نے آن لائن ہراسمنٹ، بلیک میلنگ یا نقصان دہ مواد دیکھا
- خودکشی کی شرح میں 62 فیصد اضافہ، خاص طور پر لڑکیوں میں
- نیند کی کمی، ڈپریشن، باڈی ایمیج ایشوز میں بے پناہ اضافہ
امریکی سرجن جنرل ویویک مورتی نے بھی 2024 میں کہا تھا کہ "سوشل میڈیا بچوں کی دماغی صحت کے لیے تمباکو جتنا خطرناک ہے”۔ آسٹریلیا نے اسے سنجیدگی سے لیا۔
ٹیک کمپنیوں کا ردعمل: شدید مخالفت
میٹا، ٹک ٹاک، سنپ چیٹ اور ایکس نے مشترکہ بیان میں کہا: "یہ قانون ناقابل عمل ہے۔ عمر کی تصدیق کے لیے پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کرنا پڑے گی۔” ایلون مسک نے ایکس پر لکھا: "یہ آزادی اظہار رائے کا قتل ہے۔ آسٹریلیا اب ڈکٹیٹر شپ بن رہا ہے۔”

ٹک ٹاک نے کہا کہ وہ قانون کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔
عوامی رائے: تقسیم
آسٹریلوی پولز (YouGov 2025):
- 77 فیصد بالغ اس پابندی کے حق میں
- 91 فیصد والدین اس کی حمایت کر رہے ہیں
- 61 فیصد ٹین ایجرز اسے "ظالمانہ” قرار دے رہے ہیں
آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی پر تنازعات اور خطرات
ماہرین نفسیات اور سائبر سیفٹی ایکسپرٹس نے خبردار کیا:
- بچے Dark Web، Discord، Telegram یا VPN استعمال کر کے پابندی توڑ سکتے ہیں
- غیر منظم پلیٹ فارمز پر خطرناک مواد تک رسائی بڑھ سکتی ہے
- بچوں میں تنہائی، ڈپریشن بڑھ سکتا ہے کیونکہ دوستوں سے رابطہ منقطع ہو جائے گا
- عمر کی جھوٹی تصدیق (Fake IDs) کا کاروبار بڑھے گا
سائبر سیفٹی ایکسپرٹ سوسن میک لین کہتی ہیں: "یہ قانون اچھا ارادہ رکھتا ہے، لیکن اس سے بچے زیادہ خطرناک جگہوں پر چلے جائیں گے۔”
عدالت میں چیلنج
دو 15 سالہ بچوں نے فیڈرل کورٹ میں درخواست دائر کی کہ یہ قانون "آزادی اظہار اور سیاسی معلومات تک رسائی” کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم حکومت نے کہا کہ وہ کوئی رعایت نہیں دے گی۔
عالمی ردعمل
- یورپی یونین: اسے "ماڈل” قرار دیا اور خود بھی 16 سال کی حد پر غور کر رہی ہے
- امریکہ: کوئی قانون نہیں، صرف والدین کنٹرولز
- برطانیہ: Ofcom نے 2025 میں آن لائن سیفٹی ایکٹ نافذ کیا، لیکن عمر کی حد نہیں
- بھارت: 13 سال کی حد، لیکن نافذ نہیں ہو رہی
آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی کے نفاذ کا طریقہ
حکومت نے 12 ماہ کا ٹرائل پیریڈ دیا ہے۔ کمپنیوں کو یہ کرنا ہوگا:
- عمر کی تصدیق کا نظام لگانا
- 16 سے کم عمر اکاؤنٹس ڈیلیٹ یا معطل کرنا
- شکایات کا 24 گھنٹے میں جواب دینا
- والدین کے لیے رپورٹنگ ٹولز دینا
اگر کمپنیاں نہ مانیں تو eSafety Commissioner براہِ راست بلاک کر سکتا ہے۔
والدین کا کردار ختم؟
سب سے بڑا تنازع یہی ہے کہ والدین کو اختیار ہی نہیں دیا جا رہا۔ چاہے والدین اجازت دیں، تب بھی بچہ اکاؤنٹ نہیں بنا سکے گا۔
اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی وائس موڈ کو مزید آسان اور طاقتور بنا دیا
آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی دنیا کے لیے ایک بڑا تجربہ ہے۔ کیا یہ بچوں کو واقعی محفوظ بنائے گی یا انہیں مزید خطرناک جگہوں پر دھکیل دے گی؟ 10 دسمبر 2025 سے جواب ملنا شروع ہو جائے گا۔