نومبر میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 6.1 فیصد پر آگئی، مہنگائی آئندہ چند ماہ تک 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے کچھ اوپر رہ سکتی
اسلام آباد(رئیس الاخبار) :— سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2025 میں مہنگائی کی سالانہ شرح کم ہو کر 6.1 فیصد رہ گئی، جو گزشتہ ماہ کے اضافے کے بعد معمولی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے تخمینے کے مطابق نومبر میں مہنگائی کی شرح کی یہ سطح متوقع دائرہ کار کے اندر رہی۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے تحت ناپی جانے والی مہنگائی 6.24 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جب کہ ستمبر میں یہ شرح 5.6 فیصد تھی۔ اشیائے خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے اس میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
نومبر میں مجموعی مہنگائی میں معمولی کمی دیکھی گئی اور یہ سالانہ بنیاد پر 6.1 فیصد ریکارڈ ہوئی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر اضافہ 0.4 فیصد رہا۔ اکتوبر میں ماہانہ مہنگائی میں 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا تھا جس کے مقابلے میں نومبر کا اضافہ واضح طور پر کم ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نومبر 2025 میں ایس پی آئی (Sensitive Price Index) کے تحت سالانہ مہنگائی 4.2 فیصد بڑھی، جو ایک ماہ قبل یعنی اکتوبر میں 4.8 فیصد اور نومبر 2024 میں 7.3 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر ایس پی آئی میں نومبر کے دوران 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جو اکتوبر میں 0.9 فیصد تھا۔

اگرچہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران مہنگائی 30 فیصد کے قریب تھی، لیکن عارضی سپلائی مسائل، موسمی عوامل اور سیلابی تباہ کاریوں کے اثرات کے باعث خوراک کی قیمتیں اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
گزشتہ ہفتے وزارتِ خزانہ نے پیش گوئی کی تھی کہ بہتر فصلوں کی آمد اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے نومبر میں مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کی امید ہے۔
یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں مرکزی بینک نے اپنی کلیدی شرحِ سود 11 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی آئندہ چند ماہ تک 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے کچھ اوپر رہ سکتی ہے، تاہم اگلے مالی سال میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
The REER index appreciated to 104 in October 2025 as compared to 101.7 in September 2025.
For details see https://t.co/0pjvdnFNYw#SBPREER pic.twitter.com/AUfabCrkk5
— SBP (@StateBank_Pak) November 17, 2025
One Response