دو ماہ کے لیے اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی

اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

دو ماہ کے لیے اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ممکنہ عوامی بے چینی کے خدشات کے پیشِ نظر دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس میں شہر کی حدود میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ بعض حلقے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے دائرہ اختیار میں غیر قانونی اجتماعات منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس سے شہر میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم نوٹیفکیشن میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کن گروہوں یا عناصر کی جانب سے اس قسم کی سرگرمیوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

لکی مروت پولیس موبائل پر خودکش حملہ ایک اہلکار شہید
خودکش حملے کے بعد لکی مروت میں پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود

حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے تمام ریونیو حدود، بشمول ریڈ زون، میں ہر قسم کے اجتماع، جلوس، ریلی اور احتجاجی مظاہرے اس پابندی کے دائرے میں شامل ہوں گے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 انتظامیہ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی بھی علاقے میں ایک مقررہ مدت کے لیے اجتماعات پر پابندی لگا کر امن و امان کو یقینی بنا سکے۔

اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ امنِ عامہ، شہری سکون اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے اس قسم کی پابندیاں ضروری ہیں، تاکہ ممکنہ تشویش یا بے چینی سے بروقت نمٹا جا سکے۔

یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے اور 18 جنوری 2026 تک مؤثر رہے گا، جس کے بعد پابندی خود بخود ختم ہو جائے گی، جب تک کہ انتظامیہ اسے مزید توسیع نہ دے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]