فیض حمید کورٹ مارشل فیصلہ — 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی

فیض حمید کورٹ مارشل فیصلہ 14 سال قید بامشقت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کورٹ مارشل فیصلہ: فیض حمید تمام الزامات میں مجرم، 14 سال قید بامشقت کی سزا

اسلام آباد: پاکستان آرمی نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالت نے تفصیلی کارروائی کے بعد فیض حمید کو تمام الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق فیض حمید پر سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور آرمی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات تھے۔
کورٹ مارشل میں پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ:

“فیض حمید سیاسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور آرمی ایکٹ کی متعدد دفعات کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔”

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی مکمل طور پر فوجی قوانین اور آئینی تقاضوں کے مطابق کی گئی، جس میں فیض حمید کو مکمل قانونی حق، وکیل کی سہولت اور دفاع کا پورا موقع فراہم کیا گیا۔

سزا کی نوعیت

  • بیان میں مزید کہا گیا کہ:
  • سزا قید بامشقت ہے
  • مجموعی مدت 14 سال مقرر کی گئی ہے
  • سزا کا نفاذ فوری طور پر ہو گا

یہ فیصلہ ملک کے سیاسی اور فوجی حلقوں میں زبردست بحث کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ فیض حمید کا شمار حالیہ دور کے سب سے بااثر فوجی افسران میں ہوتا تھا۔

پس منظر

فیض حمید پر عرصہ دراز سے مختلف سیاسی معاملات میں مداخلت اور اثرانداز ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
کورٹ مارشل کی کارروائی کئی ماہ سے جاری تھی جس کے بعد آج فیصلہ سنایا گیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فوج کسی بھی اہلکار کے خلاف قانون سے بالاتر ہو کر کوئی رعایت نہیں کرتی اور ادارے کے نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خطاب کرتے ہوئے قومی علماء مشائخ کانفرنس کی تقریب
قومی علماء مشائخ کانفرنس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تاریخی خطاب
جی ایچ کیو میں خطاب کرتے ہوئے عاصم منیر کا افغانستان اور بھارت کو دوٹوک پیغام
سی ڈی ایف عاصم منیر کی افغانستان اور بھارت کے حوالے سے سخت وارننگ

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]