قومی ائیر لائن کی نجکاری میں اہم پیش رفت، پہلا مرحلہ مکمل

قومی ائیر لائن کی نجکاری کا پہلا مرحلہ مکمل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

قومی ائیر لائن کی نجکاری، تین پری کوالیفائیڈ بڈرز نے بولیاں جمع کرا دیں

قومی ایئر لائن کی نجکاری کے عمل میں ایک اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں اس تاریخی عمل کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے قومی ایئر لائن کی نجکاری کو معیشت کی بحالی اور سرکاری اداروں کے مالی بوجھ میں کمی کے لیے ایک کلیدی اصلاحاتی قدم قرار دیا جا رہا ہے، اور اب اس منصوبے نے عملی شکل اختیار کر لی ہے۔

نجکاری کے اس پہلے مرحلے میں قومی ایئر لائن کی خریداری کے لیے تین پری کوالیفائیڈ بڈرز نے اپنی بولیاں جمع کرا دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان بولیوں کو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت سہ پہر ساڑھے تین بجے کھولا جائے گا۔ یہ عمل نہ صرف شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے بلکہ سرمایہ کاروں اور عوامی حلقوں میں اعتماد کے فروغ کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

نجکاری کے اگلے مرحلے میں پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کا اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں قومی ایئر لائن کی ریفرنس قیمت (ریزرو پرائس) طے کی جائے گی۔ ریفرنس قیمت اس نجکاری کے عمل کا سب سے حساس اور اہم مرحلہ تصور کی جاتی ہے، کیونکہ یہی وہ کم از کم قیمت ہوتی ہے جس سے کم پر ادارے کی فروخت نہیں کی جا سکتی۔ اس مرحلے پر ادارے کے اثاثوں، مالی ذمہ داریوں، مستقبل کی آمدنی اور مارکیٹ ویلیو سمیت تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

ریفرنس قیمت طے ہونے کے بعد یہ معاملہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (CCOP) کے سامنے پیش کیا جائے گا، جہاں اس قیمت کی حتمی منظوری دی جائے گی۔ کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بعد ہی نجکاری کے اگلے اور فیصلہ کن مراحل کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس پورے عمل میں شفافیت، قانونی تقاضوں اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

بڈنگ کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد مشیر نجکاری محمد علی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لائن کی فروخت کے لیے بڈنگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، جو حکومت کی سنجیدہ اصلاحاتی کوششوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب معاملہ پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کے پاس جائے گا، جہاں قومی ایئر لائن کی ریزرو پرائس پر غور کیا جائے گا۔

مشیر نجکاری نے واضح کیا کہ ریزرو پرائس ایک خفیہ معاملہ ہوتا ہے اور اس کا کسی بھی فریق کو پہلے سے علم نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق یہ قیمت تفصیلی مالی تجزیے، بین الاقوامی ماہرین کی رائے اور مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریزرو پرائس کی منظوری پہلے پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ دے گا، جس کے بعد اسے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

محمد علی کا کہنا تھا کہ کابینہ کمیٹی اس ریزرو پرائس کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گی، اور یہی مرحلہ نجکاری کے پورے عمل میں سب سے اہم اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک بہت بڑا مرحلہ ہے کیونکہ گزشتہ 20 برسوں میں پاکستان میں کسی بڑے سرکاری ادارے کی نجکاری نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق قومی ایئر لائن کی نجکاری نہ صرف ایک ادارے کی فروخت ہے بلکہ یہ حکومتی پالیسیوں پر اعتماد اور معیشت میں اصلاحات کے تسلسل کا عملی مظہر ہے۔

قومی ایئر لائن کئی دہائیوں سے مالی خسارے کا شکار رہی ہے اور اس پر اربوں روپے کا بوجھ قومی خزانے پر پڑتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ادارے کی نجکاری سے حکومت کو نہ صرف مالی دباؤ میں کمی کا موقع ملے گا بلکہ ایئر لائن کے آپریشنل ڈھانچے میں بہتری، سروس کے معیار میں اضافہ اور بین الاقوامی مسابقت میں بہتری کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔

نجکاری کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے قومی ایئر لائن کو جدید انتظامی صلاحیت، بہتر کارپوریٹ گورننس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو سکے گی، جس سے ادارے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں پر زیادہ توجہ دے سکے گی۔

دوسری جانب حکومت نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ نجکاری کے عمل میں ملازمین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور انہیں کسی قسم کے غیر ضروری نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے واضح پالیسی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے تاکہ ملازمین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق قومی ایئر لائن کی کامیاب نجکاری پاکستان کے لیے ایک مثبت پیغام ہو گی، جو دیگر سرکاری اداروں میں اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے عالمی سرمایہ کاروں کو یہ اشارہ ملے گا کہ پاکستان مشکل فیصلے کرنے اور اصلاحات پر عمل درآمد کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہونا پاکستان کی معاشی اصلاحات کی سمت میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت ہے۔ اگر یہ عمل شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف قومی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل میں دیگر سرکاری اداروں کی بہتری کے لیے بھی ایک مضبوط مثال قائم کرے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]