عمران خان اور بشریٰ کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر

"اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں سے متعلق قانونی کارروائی"
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر

اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے بانی تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے باقاعدہ اپیلیں دائر کر دی گئی ہیں۔ یہ اپیلیں معروف وکیل خالد یوسف چوہدری کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئیں، جن میں اسپیشل سینٹرل کورٹ کے فیصلے کو غیر قانونی، غیر آئینی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بشریٰ بی بی کی اپیل کو ڈائری نمبر 24561 جبکہ عمران خان کی اپیل کو ڈائری نمبر 24560 الاٹ کر دیا گیا ہے۔ اپیلوں کی ڈائریاں لگنے کے بعد یہ معاملہ باقاعدہ طور پر ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آ چکا ہے، جہاں اب عدالت اس فیصلے کے قانونی جواز، شواہد کی نوعیت اور ٹرائل کورٹ کی کارروائی کا ازسرِنو جائزہ لے گی۔

اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ایسے گواہوں کے بیانات پر انحصار کیا جن پر قانوناً بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ اپیل کے مطابق انعام اللہ شاہ، جنہیں پہلے ہی ملازمت سے برطرف کیا جا چکا تھا، کے بیان کو بنیاد بنا کر سزا سنائی گئی، حالانکہ ایک برطرف شدہ اور متنازع حیثیت رکھنے والے فرد کے بیان کو شفاف اور غیر جانبدار شہادت نہیں سمجھا جا سکتا۔ مزید برآں، عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا، جبکہ قانون کے مطابق وعدہ معاف گواہ کے بیان کو آزاد اور ٹھوس شواہد کے بغیر فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔

اپیل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ استغاثہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف الزامات کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ نہ تو کوئی ٹھوس دستاویزی ثبوت پیش کیا گیا اور نہ ہی ایسا قابلِ اعتماد گواہ سامنے لایا گیا جس کی بنیاد پر سزا کو برقرار رکھا جا سکے۔ اپیل کنندگان کا مؤقف ہے کہ محض قیاس آرائیوں اور کمزور بیانات پر کسی شہری کو سزا دینا انصاف کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔

عدالت میں دائر درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ ایک ہی نوعیت کے جرم پر کسی فرد کو متعدد مرتبہ سزا دینا آئین اور فوجداری قانون دونوں کے تحت ممنوع ہے۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ پہلے ہی توشہ خانہ کیس میں کارروائی ہو چکی ہے، لہٰذا اسی معاملے کو مختلف عنوانات کے تحت دوبارہ کھولنا اور سزا دینا “ڈبل جیپرڈی” کے اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مزید یہ کہ اپیل میں اسپیشل سینٹرل کورٹ کے دائرہ اختیار پر بھی سنگین قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسپیشل سینٹرل کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا قانونی اختیار ہی حاصل نہیں تھا، اس لیے اس عدالت کی جانب سے دیا گیا فیصلہ ابتدا ہی سے غیر مؤثر اور کالعدم تصور کیا جانا چاہیے۔ اپیل کنندگان کے مطابق اگر کسی عدالت کو اختیار سماعت حاصل نہ ہو تو اس کی تمام کارروائی قانوناً بے بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

اپیل میں صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ (وعدہ معاف گواہ) بنانے کے عمل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مؤقف کے مطابق صہیب عباسی کو دباؤ اور مخصوص مقاصد کے تحت وعدہ معاف گواہ بنایا گیا، جو کہ شفاف ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ ایسے گواہ کے بیان کو بغیر آزاد شواہد کے قبول کرنا انصاف کے بنیادی تقاضوں سے انحراف کے مترادف ہے۔

درخواست میں بلغاری سیٹ کے معاملے پر بھی تفصیلی مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ اپیل کے مطابق بلغاری سیٹ توشہ خانہ کے قواعد و ضوابط کے عین مطابق سابق حکمران جوڑے نے اپنے پاس رکھا، اور اس میں کسی قسم کی غیر قانونی کارروائی ثابت نہیں کی جا سکی۔ اپیل میں نشاندہی کی گئی ہے کہ توشہ خانہ قوانین میں موجود طریقہ کار کو نظر انداز کر کے محض الزامات کی بنیاد پر سزا سنائی گئی، جو کہ قانون کی منشا کے خلاف ہے۔

اپیل میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ یہ مقدمہ بغیر کسی جامع اور غیر جانبدار تفتیش کے قائم کیا گیا۔ اپیل کنندگان کے مطابق ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے اور محض سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ اس ضمن میں اپیل میں واضح طور پر مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور مقدمے کا مقصد انصاف کی فراہمی کے بجائے سیاسی دباؤ ڈالنا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کسی بھی صورت میں “سرکاری ملازم” کی قانونی تعریف میں نہیں آتے، لہٰذا ان پر وہ دفعات لاگو نہیں ہوتیں جن کا اطلاق سرکاری ملازمین پر ہوتا ہے۔ اپیل میں اس قانونی سقم کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ نے اس بنیادی نکتے کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ صادر کیا۔

آخر میں، اپیلوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ ان اپیلوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے کیونکہ اپیل کنندگان اس وقت سزا بھگت رہے ہیں اور ان کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ اس معاملے کی فوری سماعت کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناانصافی کا بروقت ازالہ ہو سکے۔

یہ اپیلیں نہ صرف توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کو چیلنج کرتی ہیں بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام میں شفاف ٹرائل، اختیار سماعت اور بنیادی حقوق کے حوالے سے اہم قانونی سوالات بھی اٹھاتی ہیں، جن پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ مستقبل میں ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھ سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]