21 ویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن: 2027 میں زمین کے بڑے حصے پر دن میں رات کا سماں ہوگا
کائنات کے سربستہ رازوں میں سورج گرہن ہمیشہ سے انسانوں کے لیے تجسس کا باعث رہا ہے۔ ماہرین فلکیات نے پیشگوئی کی ہے کہ 21 ویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن 2 اگست 2027 کو ہونے جا رہا ہے، جو اپنی نوعیت کا ایک یادگار واقعہ ہوگا۔

صدی کا سب سے طویل اندھیرا
تحقیق کے مطابق، 2027 میں ہونے والا یہ طویل ترین سورج گرہن تقریباً 6 منٹ 23 سیکنڈ تک جاری رہے گا۔ اس دوران چاند سورج کے سامنے اس طرح حائل ہوگا کہ زمین کے کئی حصوں پر دن کے وقت مکمل اندھیرا چھا جائے گا۔ یہ دورانیہ اس صدی میں اب تک ہونے والے تمام گرہنوں سے زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے اس عہد کا طویل ترین سورج گرہن قرار دیا گیا ہے۔
سائنسی وجوہات اور چاند کا فاصلہ
یہ غیر معمولی منظر اس وقت پیش آئے گا جب چاند زمین کے بہت قریب ہوگا، جس کی وجہ سے وہ آسمان پر بڑا دکھائی دے گا۔ اسی دوران زمین سورج سے اپنے مدار میں دور ہوگی۔ ان دونوں فلکیاتی عوامل کے ملاپ سے سورج مکمل طور پر ڈھک جائے گا اور ہمیں طویل ترین سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کو ملے گا۔ اس دوران سورج کا بیرونی حصہ جسے ‘کرونا’ کہا جاتا ہے، ایک روشن ہالے کی صورت میں نظر آئے گا۔
موسمی تبدیلی اور متاثرہ ممالک
اس طویل ترین سورج گرہن کے دوران فضا گہری شام کی طرح ہو جائے گی اور درجہ حرارت میں اچانک کمی محسوس ہوگی۔ یہ حیرت انگیز منظر یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔ اسپین، مراکش، مصر، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ وہ خوش نصیب ممالک ہوں گے جہاں کے شہری اس سائنسی معجزے کا بھرپور مشاہدہ کر سکیں گے۔
نایاب موسمی منظر: گوادر میں سمندری بگولا بننے کی وجوہات اور بارش کے نئے سلسلے کا آغاز
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2027 میں 21ویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن ہوگا، لیکن کائناتی ریکارڈ کے مطابق سال 2186 میں ایک ایسا سورج گرہن بھی متوقع ہے جو اس سے بھی زیادہ طویل مدتی ہوگا۔ تاہم، موجودہ نسل کے لیے 2027 کا واقعہ زندگی کا ایک یادگار تجربہ ثابت ہوگا۔