2026 میں پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا: یو این ایف پی اے

پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

2026 میں پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا: یو این ایف پی اے

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026 میں 22 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔

یو این ایف پی اے پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حقائق کے تناظر میں آبادی کو بوجھ کے طور پر دیکھنے کے بجائے پائیدار اور جامع ترقی کا ایک اسٹریٹجک محرک سمجھنے کی فوری ضرورت ہے۔

ادارے نے زور دیا کہ 2026 کے تناظر میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) فارمولے میں آبادی کو شامل کرنے کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی جائے تاکہ قومی منصوبہ بندی اور مالیاتی فیصلے زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی سستی ہونے کا امکان
ملک بھر کے صارفین کو ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی سستی ہونے کی توقع

بیان میں کہا گیا کہ محض آبادی کے حجم کو بنیادی پیمانہ بنانے کے بجائے مستقبل بَین نقطہ نظر اپنانا ناگزیر ہے، جس کے تحت صوبوں کو صنفی مساوات، ماحولیاتی استحکام، متوازن آبادیاتی نتائج اور صحت و تعلیم کی معیاری خدمات جیسے قابلِ پیمائش اہداف کے حصول پر مراعات دی جائیں۔

یو این ایف پی اے کے مطابق اس نوعیت کی اصلاحات سے مالی وسائل کو انسانی ترقی کے نتائج کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا، جدت، شفافیت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا اور آبادی سے متعلق پالیسیاں عوام اور مقامی کمیونٹیز کے لیے عملی فوائد میں تبدیل ہو سکیں گی۔

ادارے نے مزید زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے واضح جوابدہی کا نظام، مقررہ ٹائم لائنز اور پائیدار ملکی مالی وسائل فراہم کیے جائیں، جس کی بنیاد مضبوط آبادیاتی ڈیٹا اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔

یو این ایف پی اے نے کہا کہ اگرچہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بننے کے بعد بھی اب بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات، خاندانی منصوبہ بندی کی نامکمل ضروریات، کم عمری کی شادیاں، صنفی بنیاد پر تشدد اور خصوصاً دور دراز علاقوں میں معیاری تولیدی صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق یہ مسائل نہ صرف شرحِ پیدائش میں سست رفتار کمی بلکہ ملک میں غیر متوازن ترقیاتی نتائج سے بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]